30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خامسًا: الحمدﷲ فوائد الفواد وغیرہ کی سند کا خودہی جواب دے لیا جب جمہور اولیا ء کا ممانعت پر ہیں اور اکثر کے لئے حکم کل تو اجماع اولیاء تحریم پر ہوا اجماع کے مقابل کوئی قول سند نہیں ہوسکتا خود بکر نے کہا"اجماع ثابت ہے کوئی شخص انکار کی مجال نہیں رکھتا"ص ۲۳۔
عبارت لطائف میں تین لطائف اور بھی ہیں آیندہ کااتنظار کیجئے،لطائف کے اس کلام میں بکر پر یہ قاہر رد تھے کہ تمام کاروائی دریا برد تھی لہذا دو ٹکڑا صاف کتر لیا دین میں ایسی دغا بازی کیا شان اسلام ہے۔
(۵۲)ص ۲۳ میں دلیل العارفین فوائد السالکین تحفۃ العاشقین کا نام لیا اور عبارت نقل نہ کی جہاں بحوالہ صفحہ عبارت نقل کی وہاں تو وہ صریح کذب جری کی راہ لی یہاں کیا اعتبار ہے اور اگر ان میں وہ مضمون ہو اور بکر نے خیانت بھی نہ کی ہو تو اوّلًا اسی کاثبوت درکار کہ یہ کتابیں حضرات منسوخ الیہم رضی اﷲ تعالٰی عنہم کی ہیں بہت کتابیں محض جھوٹ نسبت کرکے چھاپ دی ہیں جس کا ذکر آخر فضل سوم میں آتا ہے۔
(۵۳)ثانیًا: اگربیان ثقات سے ثابت ہو کہ ان حضرات کی کوئی کتاب اس نام سے تھی تو بلاشبہ یہ مشہور متداول نہیں بلکہ کتب غریبہ پر اعتماد جائز نہیں۔علامہ سید احمد حموی غمز العیون و البصائر شرح الاشباہ والنظائر میں محقق بحر صاحب بحرالرائق سے ناقل:لایجوز النقل من الکتب الغریبۃ التی لم تشتھر [1]۔ غیر مشہور کتابوں سے نقل جائز نہیں،فتح القدیر وبحرالرائق ونہر الفائق ومنح الغفار وغیرہا میں ہے:
|
لووجد بعض نسخ النوادر فی زماننا لایحل عزوما فیھا الٰی محمد ولا الی ابی یوسف لانھا لم تشتھر فی عصرنا فی دیارنا ولم تتداول نعم اذا وجد النقل عن النوادر مثلا فی کتاب مشہور معروف کالہدایۃ والمبسوط کان ذٰلك تعویلا علی ذٰلك الکتاب [2]۔ |
اگر ہمارے زمانے میں نوادر میں نوادر کا کوئی نسخہ پایا جائے تو اس میں جو کچھ ہے اسے ابویوسف یا محمد کی طرف نسبت کرنا حرام ہے اسی لئے کہ وہ کتاب ہمارے زمانے میں یہاں مشہور ومتداول نہیں ہاں نوادر سے اگر مثلا ہدایہ یا مبسوط کسی مشہور معروف کتاب میں نقل ہو تو اس نقل کا ماننا اس مشہور کتاب کے اعتماد پر ہوگا۔ |
اپنے زمانے میں غیر مشہور کی قید سے افادہ فرمایا کہ پہلے اگر مشہور بھی تھی تو اب معتبر نہیں نہ کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع