30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بلکہ ابھی بکر کے مستند فتاوٰی عزیز سے سن چکے کہ غیر کے لئے سجدہ تحیت حرام ہونے پر اجماع قطعی ہے۔
(۵۰)طرفہ یہ کہ"گمراہی بھی ہے تو اجماع سے جاتی رہی"یعنی امت گمراہی پر اجماع تو کرلیتی ہے لیکن اس اجماع سے گمراہی کی کا یاپلٹ ہوکر ہدایت ہوجاتی ہے۔انا ﷲ واناالیہ رجعون زہے گمراہی وجنون " لَا یَعْقِلُوۡنَ شَیْـًٔا وَّلَا یَہۡتَدُوۡنَ﴿۱۷۰﴾ "[1](نہ وہ کچھ سمجھتے ہیں اور نہ راہ پاتے ہیں۔ت)
(۵۱)صفحہ ۲۰ پر لطائف اشرفی کی عبارت نقل کی اور اس کی ابتداء سے یہ عبارت چھوڑدی:
|
اما وضع جبھہ بین یدی الشیوخ بعضے از مشائخ رواداشتہ اما اکثر مشایخ اعراض کردہ اند واصحاب خود را ازاں امتناع ساختہ کہ سجدہ تحیت در امت پیشین بودحال منسوخ ست [2]۔ |
مشایخ کرام کے سامنے پیشانی زمین پر رکھنا بعض نے اس روایت کو جائز فرمایا اکثر مشائخ نے اس کا انکار کیا ہے اور اس سے اظہار نفرت فرمایا)اور اپنے اصحاب کو اس سے منع فرمایا کہ سجدہ تحیت پہلی امتوں میں جائز تھا لیکن اس امت میں منسوخ ہے۔(ت) |
یہ کتنی بھاری خیانت ہے اس کلام لطائف میں بہت لطائف تھے۔
اوّلًا: سجدہ تحیت کی منسوخی جس کا بکر کو انکار ہے۔
ثانیًا: بکرکے ادعائے کاذب اجماع کا رد کہ اکثر اولیاء انکار سجدہ پر ہیں۔
ثالثًا: بلکہ ممانعت سجدہ پراجماع کا ثبوت کہ بکر نے خود اپنے ادعائے کاذب اجماع کی یونہی مرہم پٹی کی ہے کہ"اکثر اجماع ہے وللاکثر حکم الکل اکثر واسطے کال کا حکم ہے"ص ۲۴۔اسی کی مستند لطائف سے ثابت ہوا کہ اکثر مشائخ کرام ممانعت سجدہ پر ہیں اوعر اکثر کے واسطے کا حکم ہے تو تحریم سجدہ پر اجماع اولیائے کرام ثابت ہوا اور اجماع علماء خود ظاہر اور بکر کی دوسری مستند فتاوی عزیزیہ میں مصرح تو غیر خدا کے لئے سجدہ تحیت ہونے پر اولیاء وعلماء کا اجماع ہوا تو یہ بکر خود اپنی مستند وں سے اجامع کا منکر اور علمائے کرام و اولیائے عظام سب کا مخالف ہے وکفی بہ خسرانا مبینا(اوریہی کھلا گھاٹا کافی ہے۔ت)۔
رابعًا: بکر کے اس کذب صریح وافترائے قبیح کا رد کہ"سجدہ تعظیمی تمام بزرگوں کو کیا جاتا تھا"ص ۲۳ وہ فرماتے ہیں جمہور اولیائے منع فرماتے تھے یہ کہتا ہے سب اولیاروا رکھتے تھے ع
ببین تفاوت رہ از کجاست تابکجا
(دیکھو تو سہی راستے کافرق کہ کہاں سے کہاں تك ہے۔ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع