30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الرکوع کالسجود فی المحیط انہ یکرہ الانحناء للسلطان وغیرہ[1] |
تك جھکنا بھی سجدے کے مثل ہے اور محیط میں فرمایا کہ بادشاہ وغیرہ کسی کے لئے جھکنا ہو منع ہے۔ |
(۲۷)ہنوز بس نہیں،چند سطریں بعد اقسام بوسہ میں فرمایا:
|
حرام للارض تحیۃ وکفر لہا تعظیما[2] |
زمین بوسی بطور تحیت حرام ہے اور بطور تعظیم کفر۔ |
افسوس کہ خود بکر معتمد کتابیں زعم بکر کو کیسا کیسا باطل کررہی ہے واﷲ الحمد اورآگے آگے دیکھئے کیا ہوتا ہے فصل چہارم آنے دیجئے۔
(۲۸)ص ۲۳"سجدہ تعظیمی تمام بزرگوں کوکیا جاتاہے"یہ جھوٹ لاکھوں جھوٹ کا ایك جھوٹ،اور عامہ اولیائے کرام پر تہمت ہے جس کا رد خود اسی کی مستند سے عنقریب آتا ہے۔
(۲۹ تا ۴۵)صفہ ۲۳"ہر خاندان ہر سلسلہ کے بزرگوں کو تعظیمی سجدہ کرنے کا ثبوت کتابنوں میں ہے"حضور سیدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ پر افتراء،حضرت شیخ الشیوخ شہاب الحق والدین سہروردی پر افتراء حضرت بہاؤ الحق والدین نقشبندی پر افتراء، حضرت شیخ عبدالواحد بن زید پر افتراء،حضرت خواجہ فضیل بن عیاض پر افتراء،حضرت ابراہیم بن ادھم پر افتراء،حضرت ہبیرہ بصری پر افتراء،حضرت سید الطائفۃ جنید پر افتراء،حضرت حبیب عجمی پر افتراء،حضرت عمشاد دینوری پر افتراء،حضرت بایزید بسطامی پر افتراء،حضرت معروف کرخی پر افتراء،حضرت سری سقطی پر افتراء،سلطان ابوالحق کاذرونی پر افتراء،حضرت نجم الدین کبرٰی پر افتراء،حضرت سری سقطی پرافتراء،سلطان ابواسحق گاذرونی پر افتراء،حضرت نجم الدین کبرٰی پر افتراء،حضرت علاؤ الدین طوسٰی پر افتراء،حضرت ضیاء الدین عبدلاقاہر پر افتراء،یہ حضرات سلسلوں اور خانوادوں کے سردار ہیں ثبوت دے ان کو کب سجدہ ہو ا اور انھوں نے جائز رکھا،یہ افتراء بھی ہزاروں افتراؤں کا ایك ہے۔
(۴۶ تا ۴۸)ان سے بھی بدرجہا سخت سے سخت بیباکی یہ کہ"حضرت علی وصحابہ کبار سے لے کر تمام بڑے بڑے علماء مشائخ اولیاء سے سجدہ تعظیمی ثابت ہے"ص ۲۳۔یہ مولٰی علی پر افتراء صحابہ کبارپر افتراء،تمام ائمہ کرام پر افتراء،یہ تین افترالاکھوں افتراؤں کا مجموعہ ہیں۔بکر سچا ہے تو مولٰی علی یا کسی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع