30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور ایك عبارت ۳ سطر کی گھڑلی،یہ بھی نراکذب ہے۔
(۱۲)اسی طرح سو۱۰۰ افتراء کا ایك ہے۔(۱۳)صفحہ ۱۳ میں جامع صغیر کی طرف نسبت کیا:
|
لاباس بوضع الخدین بین یدی المشائخ۔ |
مشائخ کے سامنے رخساروں کے رگنے میں حرج نہیں۔(ت) |
یہ بھی خالص دروغ۔
(۱۴)ویساہی سو افتراء کے برابر ہے جامع صغیر کی عبارت ابھی گزری کہ زمین چومنا حرام ہے نہ کہ زمین پر رخسارے رکھنا۔
(۱۵)اسی صفحہ میں فتاوٰی عزیز یہ کہ نسبت ادعا کیا "اس م یں بہت شرح وبسط سے تعظیمی سجدہ کی اباحت پرزوردیا ہے"یہ بھی صریح ہٹ دھرمی ہے۔فتاوٰی عزیزیہ میں بعد ذکر شبہات یہ جواب قاطع دیاکہ اجماع قطعی ست برتحریم سجدہ [1]یعنی غیر خدا کو سجدۂ تحیت حرام ہونے پر اجماع قطعی قائم ہے۔
(۱۶)تویہ بھی سو۱۰۰ افتراء کے مثل ہوا۔
(۱۷)یہیں یہی مضمون فتاوٰی سراجیہ کی نسبت کیا،یہ بھی خالص جھوٹ ہے سراجیہ بہت شرح وبسط درکنار کا نشان تك نہیں۔
(۱۸)یہی ادعا شرح مشکوٰۃ شیخ محقق کی نسبت کیا،یہ بھی محض بہتان اسی میں تویہ ہے سجدہ برائے زندہ باید کرد کہ ہر گز نمیر د و ملك اوزائل نگردد [2](سجدہ اس زندے(خدا)کے لئے کرنا چاہئے جو کبھی مرتا نہیں اور اس کی بادشاہی کبھی زوال پذیر نہیں ہوتی۔ ت)
(۱۹)صفحہ ۱۳ میں عالمگیری سے نقل کیا:
|
وان اموہ بالسجود اللتحیۃ والتعظیم لالعبادۃ فلا فضل لہ ان یسجد۔ |
اگر کفار نے کسی کو سجدۂ تحیۃ اور تعظیمی کرنے کا نہ کہ سجدہ عبادت کرنے کا،تو افضل یہ ہے کہ وہ سجدہ کرے اھ(ت) |
اور اس کی یہ سرخی دی"تعظیمی سجدہ کرنا افضل ہے"یعنی وہی سجدہ جس کی بحث ہے کہ بحالت اختیار زید
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع