30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہنود ہے۔(۹)اسی کے متصل ہے:
|
ویکرہ الانحناء عند التحیۃ وبہ ورد النھی کذا فی التمرتاشی [1]۔ |
یعنی فتاوٰی امام تمرتاشی میں ہے سلام کرتے وقت جھکنا مکروہ ہے حدیث میں اس سے ممانعت آئی۔ |
پانچ خیانت(۱۰)اسی کے متصل ہے:
|
تجوز الخدمۃ لغیر اﷲ تعالٰی بالقیام و اخذا لیدین و الانحناء ولایجوز السجود الااﷲ تعالٰی کذا فی الغرائب [2]۔ |
یعنی فتاوٰی غرائب میں ہے قیامت اور مصافحے اور جھکنے سے غیر خدا کی خدمت جائز ہے اور سجدہ جائز نہیں مگر اﷲ تعالٰی کے لئے۔ |
چھ خیانت اقول:(میں کہتاہوں)یہاں خفیف جھکنا مراد ہے کہ حد رکوع عــــــہ تك نہ پہنچے۔حدیقہ ندیہ امام علامہ عارف باﷲ سیدی عبدالغنی بانلسی میں ہے:
|
الانحناء البالغ حد الرکوع لایفعل لاحد کالسجود ولا بأس بما نقص من حد الرکوع لمن یکرہ من اھل الاسلام [3]۔ |
یعنی حد رکوع تك جھکنا غیر خدا کے لئے جائز نہیں جیسے سجدہ اور حد رکوع سے کم میں حرج نہیں کہ کسی اسلامی عزت والے کے لئے جھکیں۔ |
عالمگیری میں اگر کچھ نہ ہوتا تو دل سے عبارت گھڑ کر اس کے سر باندھنی تہمت تھی نہ کہ اس میں یہ قاہر عبارات اپنے خلاف موجود ہوں اور اسی جلد اسی باب میں ہوں پھر وہ شدید جرأت ہزار افتراء کا ایك افتراء ہے۔
(۱۱)پھر کہا ص ۱۳ اس کے بعد اسی کتاب میں لکھا ہے۔
|
وقد تبین بذٰلك ان وضع الجباہ بین یدی المشائخ جائز بلاریب۔ |
بیشك اس سے ظاہر اور واضح ہوگیا کہ مشائخ کرام کے روبرو زمین پر اپنی پیشانیاں رکھ دینا بلا شك وشبہہ جائز ہے۔ |
عــــــہ:بہ تقیید زاھدی وردالمحتار نمبر ۲۶ میں آتی ہے ۱۲ منہ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع