30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وحال المسلم مشعر بذلك علی کل حال واما العبادۃ فلا یقصدھا الا کافر اصل فی الغالب ولکن التملق الموصل الی ھذا المقدار من التذلل مذموم ولہذا جعلہ المصنف رحمہ اﷲ تعالٰی من التذلل الحرام ولم یجعلہ کفرا [1]۔ |
بہر حال خود مسلمان کا حال اس نیت کو بتارہا ہے عبادت کا ارادہ تو غالبا وہی کرے گا جو سرے سے کافر ہو۔ہان اتنی چاپلوسی جو اس حد کے ذلیل بننے تك پہنچادے بد ہے اسی لئے جھکنے کو مصنف رحمہ اﷲ تعالٰی نے حرام کہا کفر نہ ٹھہرایا۔ |
نص ۱۱۰:امام اجل عزالدین بن عبدالسلام(۱۱۱)ان سے امام ابن حجر مکی فتاوٰی کبرٰی میں جلد ۴ ص ۲۴۷(۱۱۲)ان سے امام عارف نابلسی حدیقہ ص ۳۸۱میں:
|
الانحناء البالغ الی حد الرکوع لایفعلہ احد لا حد کالسجود ولا بأس بما نقص من حد الرکوع لمن یکرہ من اھل الاسلام [2]۔ اقول: ھذا ھوا الجمع بین النصوص المتوافرۃ المتظافرۃ علی المنع وبین مافی الھندیۃ عن الغرائب تجوز الخدمۃ الھندیۃ عن الغرائب تجوز الخدمۃ لغیر اﷲ تعالٰی بالقیام واخذ الیدین والانحناء [3]اھ و قد اشاروا الیہ فی النصوص الاربعۃ التی صدرنا بھا فتلك سبعۃ وباﷲ التوفیق۔ |
حد کروع تك کوئی کسی کے لئے نہ جھکے جیسے سجدہ اور اس قدر سے کم میں حرج نہیں کہ کسی اسلامی عزت والے کے لئے جھکے۔ اقول:(میں کہتاہوں)یہی جمع کرنا ہے(یعنی دونوں قولوں میں مواخذہ اور مطابقت پیدا کرنا)درمیان ان نصوص کثیرہ جو باہم ایك دوسرے کی مؤید ہیں اور اس قول کے درمیان جو فتاوٰی عالمگیری میں فتاوٰی غرائب سے منقول ہے کہ کسی مخلوق(یعنی غیر خدا)کی قیام مصافحہ کرنے اور جھکنے سے خدمت کرنا جائز ہے اھ بیشك انھوں(ائمہ کرام)نے اس کی طرف ان چار نصوص میں اشارہ فرمایا جن کو ہم پہلے لائے ہیں پس سات ہوگئیں اور اﷲ تعالٰی ہی کے کرم سے حصول توفیق ہے۔(ت) |
نص ۱۱۳:واقعات امام ناطقی(۱۱۴)ملتقط امام ناصر الدین(۱۱۵)ان دونوں نصاب الاحتساب اول وآخر باب ۴۹(۱۱۶)جواھرا لاخلاطی کتاب الاستحسان(۱۱۷)اس سے عالمگیری جلد ۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع