30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قد صرحوا بان سجود جھلۃ الصوفیۃ بین یدی مشایخھم حرام وفی بعض صورہ مایقتضی الکفر [1]۔ |
بیشك آئمہ نے تصریح فرمائی کہ پیروں کو سجدہ کہ جاہل صوفی کرتے ہیں حرام اور اس کی بعض صورتیں حکم کفر لگاتی ہے۔ |
نص ۶۹:غایۃ البیان قلمی شرح ہدایۃ العلامۃ الاتفاقی محل مذکور بحث سجدہ میں:
|
ومایفعلہ بعضالجھال من الصوفیۃ بین یدی شیخھم فحرم محض اقبح البدع فینھون عن ذالك لامحالۃ[2] |
سجدہ کہ بعض جاہل صوفی اپنے پیر کےآگے کرتے ہیں نرا حرام اور سب سے بدتر بدعت ہے وہ جبرًا اس سے باز رکھیں جائیں۔ |
نص ۷۰:وجیز امام حفظ الدین محمد بن محمد کردری جلد ۶ ص ۳۴۳:
|
وبھذا علم ان مایفعلہ الجھلۃ لطواغیتھم ویسمونہ پایکاہ کفر عند بعض المشائخ وکبیرۃ عندالکل فلوا عتقدھامباحۃ یشخہ فھو کافر وان امرہ شیخہ بہ ورضی بہ مستحسنالہ فالشیخ النجدی ایضا کافر ان کان اسلم فی عمرہ [3]۔ |
یہاں سے معلوم ہوا کہ سجدہ کہ جہال اپنے سرکش پیروں کو کرتے اور اسے پائگاہ کہتے ہیں بعض مشائخ کے نزدیك کفر ہے اور گناہ کبیرہ تو بالاجماع ہے پس اگرا اسے اپنے پیر کے لئے جائز جانے تو کافر ہے اور اگر اس کے پیرنے اسے سجدہ کا حکم کیا اور اسے پسند کرکے اس پر راضی ہوا تو وہ شیخ نجدی خود بھی کافر ہوا اگر کبھی مسلمان تھا بھی۔ |
اقول:(میں کہتاہوں)یعنی ایسے متکبر خدا فراموش خود پسند اپنے لئے سجدے کے خوہشمند غالبا شرع سے آزاد بے قید وبند ہوتے ہیں یوں تو آپ ہی کافر ہیں اور اگر کبھی ایسے نہ بھی تھے تو حرام قطعی یقینی اجماعی کو اچھا جان کو اب ہوئے والعیاذ باﷲ تعالٰی۔
الحمد ﷲ یہ نفس سجدہ تحیت کے حکم میں ستر نص ہیں کہ سجدہ اﷲ واحد قہار ہی کے لئے ہے اور اس کے غیر کے لئے مطلقًا کسی نیت سے ہو حرام حرام حرام کبیرہ کبیرہ کبیرہ۔والحمدﷲ حمد اکثیر او صلی اﷲ تعالٰی وسلم علی سیدنا ومولٰنا وآلہ وصحبہ تعزیر وتعزیرا اٰمین !
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع