30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس آیت سے ثابت ہوا کہ غیر خدا کے لئے سجدہ حرام ہے۔
نص ۶۲:نصاب الاحتساباب ۴۹(۶۳)ایك تابعی جلیل سے کہ اکابر تابعین طبقہ اولٰی خلافت فاروقی کے مجاہدین سے تھے:
|
ان السجود فی دین محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لایحل الا ﷲ تعالٰی [1]۔ |
بیشك محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے دین میں اﷲ عزوجل کے سوا سجدہ کسی کے لئے حلال نہیں |
نص ۶۴:طریقہ محمدیہ قلمی نوع سیزدہم آفات قلب میں تذلل کو حرام بتاکر فرمایا:
|
ومنہ السجود والرکوع والانحناء للکبراء عنہ الملاقاۃ والسلام وردہ [2]۔ |
اسی حرام فروتنی سے ہے بزرگوں کے ملتے اور انھیں سلام کرتے یا جواب دیتے وقت انھیں سجدہ یا ان کے لئے رکوع کرنا یا اقرب رکوع تك جھکنا۔ |
نص ۶۵:منح الروض ص ۲۲۷:
|
السجد حرام لغیرہ سبحانہ تعالٰی [3]۔ |
غیر خدا کو سجدہ حرام۔ |
نص ۶۶:روضہ امام جل ابوزکریا نووی۔
نص ۶۷:پھرا مام ابن حجر مکی کی اعلام بقواطع الاسلام ص ۱۳:
|
مایفعلہ کثیرون من الجھلۃ الظالمین من السجود بین یدی المشائخ فان ذٰلك حرام قطعا بکل حال سواء کان للقبلۃ اولغیرھا وسواء قصد السجود ﷲ تعالٰی اوغفل وفی بعض صورہ مایقتضی الکفر عافانا اﷲ تعالٰی من ذٰلك [4]۔ |
وہ جو بہت ظالم جاہل پیروں کو سجدہ کرتے ہیں یہ ہر حال میں حرام قطعی ہے چاہے قبلہ کی جانب ہو یا اور طرف اور چاہے خدا کو سجدہ کی نیت کرے یا اس نیت سے غافل ہو پھر اس کی بعض صورتیں تو مقتضی کفر ہیں اﷲ تعالٰی ہمیں اس سے پناہ دے۔ |
نص ۶۸:اعلام ص ۵۵:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع