30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نص ۳۵:درمختار کتاب الحظر قبیل فصل البیع(۳۶)مجمع الانہر محل مذکور:
|
وھل یکفر ان علی وجہ العبادۃ والتعظیم کفروان علی وجہ التحیۃ لاوصار آثما مرتکبا للکبیرۃ [1]۔ |
اس سے کافر بھی ہوگا یانہیں؟ اگر بروجہ عبادت و تعظیم کرے کافرہے۔اور بروجہ تحیت تو کافر نہیں مجرم ومرتکب کبیرہ ہے۔ |
(۳۷)علامہ ابن عابدین جلد ۵ ص ۳۸۷ کلام مذکور درپر:
|
تلفیق القولین قال الزیلعی وذکر الصدر الشھید انہ لایکفر بھذا السجود لانہ یرید بہ التحیۃ وقال شمس الائمۃ السرخسی ان کان لغیر اﷲ تعالٰی علی وجہ التعظیم کفر [2]۔ |
یعنی یہاں دو قول تھے:ایك یہ کہ سجدہ تعظیمی کفر ہے امام شمس الائمہ سرخسی کا یہی قول ہے دوسرا یہ کہ سجدہ تحیت کفر نہیں۔امام صدر شہید کا یہی مختار ہے شارح نے دونوں کا ایك ایك حصہ لے کر یہ تفصیل کی کہ تعظیم مقصود ہو تو کفر اور تحیت تونہیں۔ |
اقول:وباﷲ التوفیق(میں کہتاہوں اور توفیق اﷲ تعالٰی سے ہے۔ت)امام صدر شہید صرف نفی کفر فرماتے ہیں:سجدہ تحیت کے گناہ کبیرہ ہونے کی خود انھوں نے تصریح فرمائی کہ نص ۲۰ میں گزری اور تعظیم سے کبھی مطلق مراد لیتے ہیں بایں معنی تحیت بھی تعظیم ہے خصوصا تحیت عظماء نص ۴۵ میں امام فقیہ النفس اور نص ۵۱ میں سیدی عبدالغنی قدس سرہ،سے آتا ہے کہ تحیت وتعظیم کو ایك صورت رکھا اور عبادت کے مقابل لیا اور کبھی خاص تعظیم مثل تعظیم الٰہی مراد لیتے ہیں جیسا کہ نص ۲۳ میں منح الروض سے گزرا اس وقت وہ مساوی عبادت ہے اس کی نظیر قسم دوم میں خود صاحب درمختار کی در منتقی سے آتی ہے کہ تعظیم کو تحیت کے مقابل لیا قول شمس الائمہ میں یہی مراد ہے تو یہ تلفیق نہیں تو فیق ہے دونوں مرادوں کی تحقیق ہے اور اﷲ عزوجل ولی توفیق ہے۔
نص ۳۸:کتا ب الاصل اللامام محمد(۳۹)فتاوٰی کتاب السیر(۴۰)ان دونوں سے فتاوٰی خلاصہ فتاوٰی قلمی آخر کتاب الفاظ الکفر(۴۱)فتاوٰی غیاثیہ ۱۰۷(۴۲)محیط(۴۳)اس سے شرح فقہ اکبر ص ۳۵(۴۴)نصاب الاحتساب باب ۴۹(۴۵)وجیز امام کردری جلد ۶ص ۳۴۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع