30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الغیر منہ ماھو کفرومنہ ماھو حرام غیر کفر فالکفر ان یقصد السجود المخلوق و الحرام ان یقصدہ ﷲ تعالٰی معظما بہ ذٰلك للمخلوق من غیر ان یقصدہ بہ اولایکون لہ قصد [1]۔ |
اور کبھی صر ف حرام۔کفر تو یہ ہے کہ مخلوق کے لئے سجدہ کا قصد کرے اور حرام یہ کہ سجدہ اﷲ تعالٰی کے لئے کرے اور مخلوق کی طرف کرنے سے اس کی تعظیم یا یہ کہ اصلا کچھ نہ ہو۔ |
نص ۱۵:جواہر الاخلاطی کتاب الاستحسان(۱۶)پھر ہندیہ جلد ۵ ص ۳۶۸،۳۶۹(۱۷)نصاب الاحتساب باب ۴۹(۱۸)یہ سب امام اجل فقیہ ابوجعفر ہندوانی سے:
|
وھذا لفظ النصاب وھو اتم من قبل الارض بین ایدی السلطان اوالامیرا اوسجد لہ فان کان علی وجہ التحیۃ لایکفر ولکن یصیر آثما مرتکبا الکبیرۃ وان کان سجد بنیۃ العبادۃ للسطان اولم تحضرہ النیۃ فقد کفر [2]۔ |
جس نے بادشاہ یاسردار کے سامنے زمین چومی یا اسے سجدہ کیا اگر بطور تحیت تھا تو کافر تو نہ ہوا مگر گنہگار مرتکب کبیرہ ہوا،اور اگر پرستش بادشاہ کی نیت کی یا عبادت وتحیت کوئی نیت اس وقت نہ تھی تو بیشك کافر ہوگیا۔ |
نص ۱۹:فتاوٰی امام ظہیر الدین مرغینانی(۲۰)اس کا مختصر للامام عینی(۲۱)اس سے غمز العیون والبصائر ص ۳۱(۲۲)فتاوٰی خلاصہ قلمی قبیل کتاب الھبۃ(۲۳)اس سے منح الروض ص ۲۳۵:
|
وھذا الفظ الامام العینی قال بعضھم یکفر مطلقًا و قال اکثرھم ھو علی وجوہ ان اراد بہ العبادہ یکفر و ان ارادبہ التحیۃ لایکفر و یحرم علیہ ذٰلك وان لم تکن لہ ارادۃ کفر عند اکثر اھل العلم [3]۔ |
غیر خدا کو سجدے سے بعض نے کہا مطلقًا کافر ہے،اور اکثر نے اس میں کئی صورتیں ہیں اگر اس کی عبادت چاہی تو کافر ہے اور تحیت کی نیت کی تو کفر نہیں حرام ہے اور اگر کچھ نیت نہ تھی تو اکثر ائمہ کے نزدیك کافرہے۔ |
خلاصہ کے لفظ یہ ہیں:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع