30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نص ۱۳:منح الروض ص۲۳۵:
|
اذا سجد بغیر الاکراہ یکفر عندھم بلاخلاف [1]۔ |
اگر بلاکراہ سجد ہ کیا تو باتفا علماء کافر ہوجائے گا۔ |
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)دعوی اتفاق بےمحل ہے اوّلًا: بلکہ صحیح ومختارہ وہی تفصیل نیت عبادت وتحیت ہے جن پر نصوص کثیرہ مطلقہ عنقریب آتے ہیں:
ثانیًا: اجلہ اکابر نے خاص صورت عدم اکراہ میں بھی سجدہ تحیت کفر نہ ہونے کی تصریحیں فرمائیں۔فتاوٰی کبرٰی میں پھر خزانۃ المفتین قلمی کتاب الکراھیۃ نیز واقعات امام صدر شہید پھر خود یہی غایۃ البیان مذکور میں مسئلہ اکراہ لکھ کر فرمایا:
|
فھذا دلیل علی ان السجود نبیۃ التحیۃ اذا کان خائفا لایکون کفرا فعلی ھذا القیاس من سجدہ عن السلاطین علی وجہ التحیۃ لایصیر کافرا [2]۔ |
یہ اس کی دلیل ہے کہ سجدہ تعظیمی جبکہ خائف(اور خطر محسوس کرے)تو کفرنہ ہوگا۔لہذا اسی پریہ مسئلہ قیاس کیا گیا ہے کہ جو بادشاہوں کو سجدہ تعظیمی کرے تو کافر نہ ہوگا۔ |
جامع الفصولین جلد دوم میں بعدمسئلہ اکراہ ہے:
|
فہذا تؤید مامران من سجد للسطان تکریما لا یکفر [3]۔ |
یہ مسئلہ گزشتہ کلام کی تائید کرتاہے کہ جس نے کسی بادشاہ کو بطور تعظیم سجدہ کیا تو(اس کاروائی سے)وہ کافر نہ ہوگا۔(ت) |
ثالثًا: خود علی قاری کی عبارت آتی ہے کہ روضہ انور کے سجدے کو صرف حرام کہا نہ کہ کفر،
رابعًا: بلکہ نص۲۷ میں وہی کہیں گے کہ بعض علماء نے تکفیر کی اور ظاہر تر عدم تکفیر ہے۔پھر اتفاق درکنار وہ قول راجح بھی نہیں ضعیف ومرجوح ہے۔
نص۱۴:امام ابن حجر مکی کی اعلام بقواطع الاسلام ص ۵۵:
|
علم من کلاھم ان السجود بین یدی |
کلام علماء سے معلوم ہوا کہ غیر کو سجدہ کبھی کفرہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع