30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فینبغی ان لایکفر الایوضع الجبین دون غیرہ لان ھذہ سجدۃ مختصتہ ﷲ تعالٰی [1]۔ اقول:اوّلًا ان کان علی وجہ العبادۃ کفر ولو لو یزد علی تقبیل ارض او انحناء بل بمجرد النیۃ والافلا کفر فی المعتمد وھو الحق المعتقد وثانیا الجبین احد جانبی الجبھۃ و ھما جبینان وانما السجود وضع الجبھۃ فلیتنبہ۔ |
بھی بد تر ہے تو چاہئے کہ اس میں کفر نہ ہو اور میں کہ یہ سجدہ ہے کہ اﷲ عزوجل کے لئے خاص ہے۔ اقول:(میں کہتا ہوں۔ت)اوّلًا اگر زمین پر بطور عبادت پیشانی رکھے تو کافر ہوجائے گا اگر چہ زمین چومنے یا صرف جھکنے بلکہ صر ف نیت کرنے پر اکتفاء کیا(اور اس سے مزید کچھ نہ کہا)تو قابل اعتماد کیا مذہب میں کفر نہیں لہذا یہی حق قابل اعتقاد ہے۔ثانیًا جبین"پیشانی کی ایك جانب اور طرف ہے۔اور پیشانی میں دو جبین ہیں۔اور سجدہ زمین پر پیشانی رکھنے کا نام ہے۔لہذا اس سے آگاہ ہونا چاہئے۔(ت) |
نص ۹:شرح نقایہ علامہ قہستانی ص ۳۳۵(۱۰)مجمع الانہر ملتقی الابحرجلد ۴ ص ۲۲۰۔دونوں فتاوٰی ظہریہ سے(۱۱)ردالمحتار علامہ شامی جلد ۵ ص ۴۷۸ جامع الرموز سے:
|
یکفر بالسجدۃ مطلقًا [2]۔ |
غیر خدا کو سجدے سے مطلقًا کافر ہوجائے گا۔ |
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)امام عینی کے اختصار اور علی قاری کی نقل سے ظہیریہ میں یہ حکم جزمی نہیں بلکہ بعض کی طرف نسبت ہے کہ بعض نے مطلقًا کافر کہا کماسیأتی(جیسا کہ آگے آئے گا۔ت)مجمع الانہر وشامی دونوں کے مستند نقل علامہ قہستانی ہیں اور شك نہیں کہ امام عینی ان سے اوثق ہیں لہذا ہم نے یہاں ظہیریہ کو نہ گنا۔
نص ۱۲:غایۃ البیان علامہ اتقانی قلمی کتاب الکراھیۃ قبیل فصل من البیع:
|
اما السجود لغیر اﷲ فہو کافر اذا کان من غیر اکراہ [3]۔ |
غیر خدا کو بلا اکراہ سجدہ کفر ہے۔ |
[1] منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحا وکنایۃ مصطفی البابی مصر ص۱۹۳
[2] مجمع الانہر کتاب الکراھیۃ بیروت ۲/ ۵۴۲ وجامع الرموز کتاب الراھیۃ ایران ۳/ ۳۱۵،ردالمحتار کتاب الحطروالاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۴۶
[3] غایۃ البیان کتاب الکراھیۃ قبیل نص من البیع(قلمی)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع