30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حاکم نے کہا:یہ حدیث صحیح ہے۔
حدیث پانزدہم۱۵:امام احمد مسند اورابوبکر بن ابی شیبہ مصنف اور طبرانی کبیر میں معاذ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی:
|
انہ لما رجع من الیمن قال یارسول اﷲ رأیت رجالا بالیمن یسجد بعضھم لبعض افلا نسجد لك قال لو کنت اٰمرا بشرا یسجد بشرا لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا[1]۔ |
وہ جب یمن سے واپس آئے عرض کی یار سول اﷲ میں نے یمن میں لوگوں کو دیکھا ایك دوسرے کو سجدہ کرتے ہیں تو کیا ہم حضور کو سجدہ نہ کریں،فرمایا:اگر میں کسی بشرکے سجدے کا حکم دیتا تو عورت کو سجدہ شوہر کا۔ |
اقول:(میں کہتاہوں)یہ حدیث صحیح ہے اس کے سب راوی رجال بخاری ومسلم ہیں اور جب دونوں حدیثیں صحیح ہیں لاجرم دو واقعے ہیں ا ول بارشام میں یہود ونصارٰی کو دیکھ کر آئے اور حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو سجدہ کیا جس پر ممانعت فرمائی دوبارہ اہل یمن کو دیکھ کر آئے اب اپنے مولٰی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو سجدہ کے کمال شوق میں یا تو پہلا واقعہ ذہن سے اتر گیا یا اس میں بوجہ مخالفت یہود ونصارٰی کہ آخر میں عمل نبوی اسی پر تھا نہی ارشاد کو محتمل سمجھااور بسبب احتمال نہی حتمی اس بار پہلے کی طرح سجدہ کیا نہیں حرف اذن چاہا اور ممانعت فرمائی گئی واﷲ تعالٰی اعلم۔
حدیث شانزدہم۱۶: ابوداؤد سنن اور طبرانی کبیر میں اور حاکم وبیہقی نے قیس بن سعد رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی:
|
قال اتیت الحیرۃ قرأیتھم یسجدون لمر زبان لھم فقلت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم احق ان یسجد لہ،قال فاتیت النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقلت انی اتیت الحیرۃ فرأیتھم |
میں شہر حیرہ میں(کہ قریب کوفہ ہے)گیا وہاں کے لوگوں کو دیکھا اپنے شہر یار کو سجدہ کرتے ہیں میں نے کہا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم زیادہ مستحق سجدہ ہیں۔خدمت اقدس میں حاضر ہوکر یہ حال وخیال عرض کیا:فرمایا بھلا اگر تمہارے |
[1] مسند احمد بن حنبل حدیث معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۵/ ۲۸۔۲۲۷،الدرالمنثور بحوالہ ابن ابی شیبہ واحمد تحت آیۃ ۴/ ۳۴ مکتبہ آیۃ اﷲ المظمی قم ایران ۲/ ۱۵۳،المعجم الکبیر حدیث ۳۷۳ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت ص۱۷۴،۱۷۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع