30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
باصحابہ حتی اتی الحائط فقال لصاحبہ افتح فقال یانبی اﷲ امرھما اعظم من ذلك قال افتح فلما حرك الباب قبلا لھما جلبۃ کحفیف الریح فلما انفرج الباب ونظرا الی نبی اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم برکا ثم سجدا فاخذ نبی اﷲ بروسھما ثم دفعہما الی صحابھما فقال استعملھما واحسن علفھما فقال القوم یانبی اﷲ تسجدلك البھائم فبلاء اﷲ عندنا بك احسن حین ھدانا اﷲ من الضلالۃ واستنقذنا بك من المھالك افلا تأذن لنا فی السجود لك فقال النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان السجود لیس لی الاللحی الذی لایموت ولو انی امراحدا من ھذہ الامۃ بالسجود لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا [1]۔ |
اس کے باغ کو گئے،فرمایا کھول دے،عرض کی یا نبی اللہ! ان کا معاملہ اس سے سخت تر ہے۔فرمایا کھول،دروازے کو جنبش ہونی تھی کہ دونوں شور کرتے ہوا کی طرح جھپٹے،دروازہ کھلا اور انھوں نے جب حضور ازقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہو سلم کو دیکھاتو فورا سجدے میں گر پڑے۔حضور نے ان کے سر پکڑ کر مالك کے سپرد کردئے اور فرمایا ان سے کام لے اور چارہ بخوبی دے۔حاضرین نے عرض کی یانبی اللہ! چوپائے حضور کو سجدہ کرتے ہیں تو حضور کے سبب ہم پر اﷲ کی نعمت تو بہتر ہے،اﷲ نے گمراہی سے ہم کو راہ دکھائی اور حضورکے ہاتھوں پر ہمیں دنیا و آخرت کے مہلکوں سے نجات دی کیا حضور ہم کو اجازت نہ دیں گے کہ ہم حضور کو سجدہ کریں۔نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا سجدہ میرے لئے نہیں وہ تو اسی زندہ کے لئے ہے جو کبھی نہ مرے گا امت میں کسی کو سجدہ کاحکم دیتا تو عورت کو سجدہ شوہر کا۔ |
حدیث دہم۱۰: طبرانی کبیر میں عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی:
|
ان رجلا من الانصار کان لہ فحلان فاغتلما فادخلھا حائطا فسد علیھما الباب ثم جاء الی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فاراد ان یدعولہ والنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ |
اس میں بھی حدیث ہشتم کی طرح دو اونٹوں کا مست ہونا ہے وہ سفر کا قصہ تھا اس میں یہ ہے کہ ان کے مالك انصاری دعا کرانے آئے کہ اﷲ تعالٰی ان اونٹوں کو مسخر فرمادے اور حضور تشریف لے گئے دروازہ کھلوایا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع