30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا [1]۔ |
اور ایسا مناسب ہوتا تومیں عورت کو شوہر کو سجدے کا حکم فرماتا۔ |
ملا علی قاری نے شرح الشفاء امام قاضی عیاض میں کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے علامہ خفاجی نے نسیم الریاض میں کہا یہ حدیث صحیح ہے۔
حدیث پنجم۵:بیہقی وابونعیم دلائل النبوۃ میں عبداﷲ بن ابی اوفی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی:
|
بینما نحن قعود مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا تاہ اٰت فقال یا رسول اﷲناضح آل فلاں قدابق علیھم فنھض رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم(فذکر القصۃ وفیہ سجود البعیر لہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم)قال فقال اصحابہ یا رسول اﷲ بہیمۃ من البھائم تسجد لك لتعظیم حقك فنحن احق ان نسجد لك قال لا لوکنت آمرا احدا من امتی ان یسجد بعضھم لبعض لامرت النساء ان یسجدن لازواجھن[2]۔ |
ہم خدمت اقدس حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں حاضر تھے کسی نے آکر عرض کی فلاں گھر کا شتر آبکش بے قابو ہوگیا حضور اٹھے اور ہم ہمراہ رکاب اٹھے ہم نے عرض کی حضور! اس کے پاس نہ جائیں۔حضور تشریف لے گئے اونٹ کی نظر جمال انور پر پڑنا اور اس کا سجدے میں گرنا صحابہ نے عرض کی:یا رسول اللہ! ایك چوپایہ تو حضور کی تعظیم حق کے لئے حضور کو سجدہ کرے ہم زیادہ اس کے لائق ہیں کہ حضور کو سجدہ کریں،فرمایا:نہیں اگر میں اپنی امت میں ایك دوسرے کو سجدہ کا حکم دیتا تو عورتوں کو فرماتا کہ شوہروں کو سجدہ کریں۔ |
حدیث ششم۶:احمد مسند اور حاکم مستدرك اور طبرانی معجم کبیر اور بیہقی ابونعیم دلائل النبوۃ اور بغوی شرح سنہ میں یعلٰی بن مرۃ ثقفی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی:
|
قال خرج النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم |
ایك روز حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع