30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فانہ لا ینبغی ان یسجدوا لاحد من دون تعالٰی فانزل اﷲ تعالٰی ماکان لبشر الی قول بعد اذا نتم مسلمون o[1] |
اسے اسی کے لئے رکھو اس لئے کہ اﷲ کے سوا کسی کو سجدہ سزا وار نہیں اس پر اﷲ عزوجل نے یہ آیت اتاری۔ |
اکلیل فی استباط التزیل میں اس آیت کے نیچے یہی حدیث اختصار ذکر کے فرمایا:ففیہ تحریم المسجود لغیر اﷲ تعالٰی[2](اس میں غیر خدا کے لئے حرمت سجدہ کا بیان ہے۔ت)
تو اس آیہ کریمہ نے غیر خدا کو سجدہ حرام فرمایا:آیت کی ایك شان نزول یہ بھی ہے کہ نصارٰی نے کہا ہمیں عیسٰی نے حکم دیا ہے کہ ہم ان کو خدا مانیں اس پر اتری،امام خاتم الحفاظ نے جلالین میں دونوں سبب یکساں بیان کئے:
|
نزل لما قال نصارٰی نجران ان عیسٰی امر ھم ان یتخذوا ربا اولما طلب بعض المسلمین السجود لہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم[3]۔ |
آیت مذکورہ اس وقت نازل ہوئی جب بحران کے عیسائیوں نے کہا کہ حضرت عیسٰی السلام نے انھیں حکم دیا کہ وہ حضرت عیسٰی کو رب بنالیں،یا اس کانزول اس وقت ہوا جب بعض مسلمانوں نے حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام سے انھیں سجدہ کرنے کا مطالبہ کیا۔(ت) |
اس نے ظاہر کردیا کہ دونوں سبب قوی ہیں کہ خطبہ میں وعدہ ہے کہ تفسیر میں وہی قول لائیں گے جو سب سے صحیح تر ہو اور بیضاوی ومدارك وابوسعود وکشاف وتفسیر کبیر میں وشہاب وجمل وغیرہم عامہ مفسرین نے اسی سبب اول کو ترجیح دی ہے کہ مسلمانوں نے حضور کو سجدے کی درخواست کی اس پر اتری خود آخرآیت میں فرمایا گیاتمھیں کفر کا حکم دیں بعد اس کہ تم مسلمان ہو تو ضرور مسلمان مخاطب ہیں جو خواہان سجدہ ہوئے تھے نہ کہ نصارٰی۔مدارك شریف وکشاف میں ہے:
|
بعد اذانتم مسلمون یدل علی ان المخاطبین کانوا مسلمین وھم الذین استأذنوہ ان |
آیت کے الفاظ"بعد اذا انتم مسلمون"اس بات پردلالت کرتےہیں کہ آیت کریمہ کے مخاطب مسلمان تھے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع