30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کی رفیع شان میں کمال زبان درازوں کی کیا فکر یہاں تك کہ ان کو نہ صرف جاہل ضدی سنگدل بتایا بلکہ بھر منہ شقی ملعون شیطان راندہ درگاہ ٹھہرایا۔وسیجزی اﷲ الفاسقین کذٰلك یجزی الظالمین(عنقریب اﷲ تعالٰی نافرمانوں کو سزادے گا اور اسی طرح ظالموں کو بدلہ دے گا۔ت)یہ سب بھی اینہم پر علم تھے کہ اور ضلال کیا کم تھے جب مذہب نہیں کچھ عجب نہیں مگر سخت آفت یہ کہ عبارتیں کی عبارتیں جی سے گھڑیں اور صاف بے دھڑك مشہور کتابوں کی طرف نسبت کردیں تو وہ بھی اس جسارت کی شان سے کہ جلد وصفحہ وباب کے نشان سے مذہبی حالت کچھ سہی۔جسے ادنی حیاوانسانیت کے دائرے میں رہنا پسند ہو کیونکر ان کا مرتکب ہوسکے اگر نہ رسالہ خبیثہ سیف النقی کی طرح پابند اثر دیوبند ہو نہ کہ ایك مشہور شخص جو پیش خویش صوفی وشیخ بننے کا خواہشمند ہو بہر حال مسلمانوں کو اس کے فریبوں سے بچانا لازم اشد جسے ہم نے بکر سے تعبیر کیا ہے کسے باشد مذکور سوال زید کے جنتے مگر ہیں سب مشتے از خروارہ بکر ہیں لہذا خبر گیری اسی کی کافی آئی وکل الصید فی جوف الفراء [1](ہر شکار فراء کے پیٹ میں ہے۔ت)ایسی تحریرات اگرچہ قطعا نا قابل التفات بعد اشاعت فاحشہ اس کا انسداد امر مہم۔
اب یہ مبارك جواب بتوفیق الوھاب چھ۶ فصل پر منقسم:
فصل ۱: قرآن کریم سے سجدہ تحیت کی تحریم،یہ اس کار دہے جو بکر نے صفحہ ۸ پر کہا:"کوئی آیت سجدہ انسان کے خلاف قرآن میں کہیں بھی نہیں"
فصل ۲:چالیس حدیثوں سے سجدہ تحیت کی تحریم:یہ اس کا رد ہے جو بکر نے ایك ضعیف حدیث دکھا کر صفحہ ۹پر کہا:"اسی حدیث کو سجدہ تعظیمی کے مخالف سند میں پیش کیا کرتے ہیں سوائے اس کے اور کوئی ثبوت ان کے پاس نہیں"اﷲ اکبر۔متواترہ حدیثوں کے مقابل یہ ڈھٹائی۔
فصل ۳:ایك سو دس نصوص فقہ سے سجدہ تحیت کی تحریم۔یہ اس کا رد ہے جو بکر نے صفحہ ۲۳ پر کہا:"سوائے چند جاہل ضدی لوگوں کے کوئی سجدہ تعظیم کے خلاف نہ تھا"صفحہ ۲۴:"اس سے انکار کرنے والے شیطان کی طرح راندہ درگاہ ہوں گے"صفحہ ۱۰: سجدہ تعظیمی کا انکار موجب لعنت و پھٹکار"وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَیَّ مُنۡقَلَبٍ یَّنۡقَلِبُوۡنَ ﴿۲۲۷﴾٪
"[2](بہت جلدی ظالم جان لیں گے کہ وہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع