30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہونا ثابت ہے اس کی اباحت پر حالت اختیاری میں کوئی روایت ضعیف بھی وارد نہیں لہذا دعوٰی بلا دلیل ہے وہ مقبول نہیں۔ پس مفتیان دین بیان فرمائیں کہ قول حق وصواب کس کا ہے۔
|
" فَاَیُّ الْفَرِیۡقَیۡنِ اَحَقُّ بِالۡاَمْنِۚ اِنۡ کُنۡتُمْ تَعْلَمُوۡنَ ﴿ۘ۸۱﴾وَ لَمْ یَلْبِسُوۡۤا اِیۡمٰنَہُمۡ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِکَ لَہُمُ الۡاَمْنُ وَہُمْ مُّہۡتَدُوۡنَ ﴿۸۲﴾٪"[1] بینوا توجروا |
پھر دو گروہوںمیں سے امن کے زیادہ لائق کون ہے اگر تم علم رکھتے ہو(تو بتاؤ)انھوں نے اپنے ایمان میں ظلم کی امیزش نہ کی ان ہی کے لئے امن ہے اور وہی راہ پانے والے ہیں۔ بیان فرماؤ اجرپاؤ۔(ت) |
باردوم: از میرٹھ خیر نگر دروازہ مرسلہ مظہر الاسلام صاحب نبیرہ نواب ممتاز علی خان ۲۹ شوال ۱۳۳۷ھ
مجدد مائتہ حاضرہ حضرت مولانا بالفضل اولٰنا جناب مولوی احمد رضاخاں صاحب دامت برکاتہم سلام وآداب کے بعد گزارش خدمت کہ ۲۸ جون ۲۹ رمضان المبارك کو رسالہ نظام المشائخ خدمت والا میں روانہ کرکے استدعا کی گئی تھی کہ براہ کرام سجدہ تحیت کے جواز وعدم جواز کی بابت شرع شریف کے مطابق اپنی قیمتی رائے سے خادم کو مطلع فرمایا جائے تاکہ یہ بے بضاعت جناب کے احسان وکرم کی وجہ سے اس عظیم شام مسئلہ میں تشفی واطمینان حاصل کرسکے چند روز ہوئے کہ جناب کہ معرکۃ الآرا تصنیف جو کہ تقویۃ الایمان کے روہ ابطال میں تحریر خادم کی نظر سے گزری اس کے صفحہ ۴۳ پر سجدہ تحیت کے جواز میں جو عبارت مزین ہے وہ حسب ذیل ہے:
|
"وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اسْجُدُوۡا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوۡۤا اِلَّاۤ اِبْلِیۡسَ ؕ "[2]"وَرَفَعَ اَبَوَیۡہِ عَلَی الْعَرْشِ وَخَرُّوۡا لَہٗ سُجَّدًا ۚ"[3] |
اور جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم کو سجدہ کہ وہ سب سجدہ میں گرے سوائے ابلیس کے۔ یوسف نے اپنے ماں باپ کو تکت پر بلند کیا اور وہ سب یوسف کے لئے سجدے میں گر ے۔ |
یہ خاك بدہن گستاخ اﷲ تعالٰی ملائکہ آدم ویعقوب ویوسف علیہم الصلٰوۃ والسلام سب کا شرك ہوا۔اﷲ تعالٰی نے حکم دیا ملائکہ نے سجدہ کیا آدم راضی ہوئے یعقوب ساجد،یوسف رضامند"
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع