30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۳)ہاں سچے محبان اہلبیت کرام کے لئے روز قیامت نعمتیں برکتیں راحتیں ہیں۔طبرانی کی حدیث میں ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
|
الزموامودتنا اھل البیت فانہ من لقی اﷲ وھو یودنا دخل الجنۃ بشفاعتنا والذی نفسی بیدہ لاینفع عبدا عملہ الا بمعرفۃ حقنا [1]۔ |
ہم اہلبیت کی محبت لازم پکڑوکہ جو اﷲ سے ہماری دوستی کے ساتھ ملے گا وہ ہماری شفاعت سے جنت میں جائے گا۔قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ کسی بندے کو اس کا عمل نفع نہ دے گا جب تك ہمارا حق نہ پہچانے۔ |
(۴)اگر دونوں عالم دین سنی صحیح العقیدہ اور جس کام کےلئے صدارت مطلوب ہے اس کے اہل ہوں تو سید کوترجیح ہے ورنہ ان میں جو عالم یا علم میں زائد یا سنی ہو اور دونوں علم دین میں مساوی ہوں تو جو اس کام کا زیادہ اہل ہو۔
|
الاتری ان الاحق بالامامۃ الاعلم وما عد شرف النسب الابعد وجودہ وقد قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا وسد الامر الی غیر اھلہ فانتظر الساعۃ۔ رواہ البخاری [2]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
کیا تم نہیں دیکھتے کہ امامت کے زیادہ لائق وہ شخص ہے جو سب سے بڑا عالم ہو اور شرافت نسب کا شمار نہیں کیا جاتا مگر اس کے پائے جانے کے بعد،اور حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جب کوئی کام کسی نا اہل کے حوالے کیا جائے تو قیامت آنے کا انتظار کیجئے۔اسے بخاری نے روایت کیا۔اور اﷲ تعالٰی سب کچھ بخوبی جانتا ہے۔(ت) |
مسئلہ ۱۸۴: از ضلع سیتاپور محلہ قضیارہ مرسلہ الیاس حسین ۲۳ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
ایك شخص سید ہے لیکن اس کے اعمال واخلاق خراب ہیں اور باعث ننگ وعارہیں تو اس سید سے اس کے اعمال کی وجہ سے تنفر رکھنا نسبی حیثیت سے اس کی تکریم کرنا جائز ہے یانہیں؟ اس سید کے مقابل کوئی غیر مثل شیخ،مغل،پٹھان وغیرہ وغیرہ کا آدمی نیك اعمال ہوں تو اس کو سید پر بحیثیت اعمال کے ترجیح
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع