30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ان کے پیشواؤں کو نام بنام لکھا ہے کہ من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر [1]جوان کے عقائد پر مطلع ہوکر ان کے کفر میں شك کرے خود کافر۔ہاں ہماری شریعت مطہرہ نے غیر خدا کے لئے سجدہ تحیت حرام کیا ہے اس سے بچنا فرض ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۷: مرسلہ حکمت یارخاں ساکن بریلی محدث شاہ آباد ۱۹ ربیع الآخر ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بمبئی اور اس کے اطراف و جوانب میں قدیم سے یہ طریقہ جاری ہے کہ ہر جماعت پنجگانہ کے بعد نماز او ردعا خیر سے فارغ ہو کر مصلیان مسجد باہم مصافحہ کرکے رخصت ہوتے ہیں آج کل موضع کرلا میں ایك مولوی صاحب اس کو بدعت قبیحہ قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے کسی قول وفعل سے یہ ثابت نہیں اس لئے ہر گز ایسا نہ کرنا چاہئے،دوسرے ایك صاحب کا قول ہے کہ مسلمان خانہ خدا میں پنجگانہ نماز ادا کرنے کے بعد باہم مصافحہ کرکے محبت واتفاق و اتحاد کا ثبوت دیتے ہیں یہ نہایت مستحسن طریقہ ہے اگر بدعت قبیحہ ہوتا تو علمائے دین ضرور اس سے منع فرماتے حالانکہ آج تك کسی سنی عالم نے اس سے ممانعت نہیں کی۔پس اس کے لئے قول فیصل بدلائل قوی تحریر فرمائیں کہ رفع نزاع ہو۔بینوا توجروا۔بیان فرماؤ اور اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
صحیح یہ ہے کہ وہ جائز اور بہ نیت حسنہ مستحب ومستحسن ہے۔اور جہاں کے مسلمانوں میں اس کی عادت ہے وہاں انکار سے مسلمانوں میں فتنہ وتفرقہ پیدا کرنا جہالت اور بربنائے اصول وہابیت ہو جیسا کہ آج کل اکثر یہی ہے تو صریح ضلالت والعیاذ باللہ۔نسیم الریاض شرح شفائے امام قاضی عیاض میں ہے:
|
الاصح انھا بدعۃ مباحۃ [2]۔ |
زیادہ صحیح یہ ہے کہ مصافحہ کرنا ایك جائز بدعت ہے۔(ت) |
درمختار میں ہے:
|
وقولھم انہ بدعۃ ای مباحۃ |
ان کا یہ فرمانا کہ مصافحہ کرنا بدعت ہے یعنی جائز اور |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع