30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ جانب قبلہ نصب سے ہزار ہا درجہ بدتر اور کفر سے ایساہی قریب ہے جیسے آنکھ کی سپیدی سے سیاہی۔تصویر کی تعظیم مطلقًا حرام ہے بلکہ غیر محل اہانت میں اس کا رکھنا ہی حرام ومانع دخول ملائکہ رحمت ہے۔ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
لاتدخل الملئکۃ بیتا فیہ کلب ولا صورۃ [1]۔ |
فرشتے اس گھرمیں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا اور تصویر ہو۔(ت) |
یہ سب وساوس ابلیس ہیں۔مسلمان اگر اس کے ہاتھوں میں نرم ہوا اور وہ اسے ہلاك کردے گا جلد کھچے اور اس عدومبین سے جدا ہوکر شریعت مطہر ہ کی باگ تھام لے " وَاللہُ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ اِلٰی صِرٰطٍ مُّسْتَقِیۡمٍ﴿۲۱۳﴾ "[2](اور اﷲ تعالٰی جسے چاہے سیدھا راستہ دکھائے(ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۲)سجدہ کسی قسم کا شریعت محمدیہ علی صاحبہا افضل الصلوٰۃ والتحیۃ میں غیر خدا کے لئے مطلقًا جائز نہیں اور احکام منسوخہ سے استناد جہل وخرط انقیاد ورنہ سگی بہن سے نکاح بھی جائز ہو اپنا رب حقیقی و مالك بالذات جان کر اس کے حضور غایت تذلل کے لئے زمین پر پیشانی رکھنا سجدہ عبادت ہے اور معبود نہ جان کر صرف اس کی عٖظمت کے لئے روبخاك ہونا سجدہ تعظیم ہے اور وقت لقا باہمی موانست کے لئے سجدہ تحیت اور ہر شناسی نعمت کے اظہارکو سجدہ شکر اول وآخر مولی عزوجل کے لیے ہیں۔پہلا فرض اور پچھلا مستحب۔اور دوم سوم کہ غیر خدا کے لئے ہوں حرام ہیں کفر نہیں۔یونہی چہارم بھی،اور پہلا کفر قطعی۔اور غیر خدا کے لئے تقبیل ارض بھی حرام ہے اور جو کرے اور جس کے لئے کی جائے اور وہ راضی ہو دونوں مرتکب کبیرہ اور بہ نیت عبادت ہو تو یہ بھی کفر کہ عبادت غیر کی نیت خود ہی کفر ہے اگرچہ اس کے ساتھ کوئی فعل نہ ہو۔ہندیہ میں ہے:
|
وفی الجامع الصغیر تقبیل الارض بین یدی العظیم حرام وان الفاعل والراضی اٰثمان کذا فی التاتارخانیۃ و تقبیل |
جامع صغیر میں ہے کسی بڑے کے آگے زمین بوسی حرام ہے۔ اور ایسا کرنے والا اس پر راضی ہونے والا دونوں گناہ گار ہیں تاتارخانیہ میں اسی طرح مذکور ہے۔اہل علم اور |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع