30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۲)عورت مومنہ کا اپنے باپ بھائی دادا سے السلام علیکم کہنا اور جواب میں وعلیکم السلام کہنا جائز ہے؟
(۳)لڑکے اور بھائی کو اپنی ماں اور بہن سے السلام علیکم کہنا جائز ہے اور جواب میں وعلیکم السلام کہنا کیساہے؟
(۴)عورت کو خاوند سے اور خاوند کو عورت سے السلام علیکم کہنا اور جواب میں وعلیکم السلام کہنا کیساہے؟
(۵)عورتوں کو اگر السلام علیکم کہنادرست نہیں تو اور کون الفاظ بروئے شرع آپس میں ملتے وقت کہنا چاہئے؟ فقط۔
الجواب:
ان سب صورتوں میں السلام علیکم اور جواب وعلیکم السلام کہنا بلا شبہہ جائز ہے زمانہ اقدس میں بھی رواج تھا۔بیبیوں سے بھی السلام علیکم فرمایا ہے مگریہاں ایك دقیقہ واجب اللحاظ ہے جو سنت مؤکدہ نہ ہو یا اس کا ایك طریقہ متعین نہ ہو اور بعض طرق عوام میں ایسے اوپری ہوگئے ہوں کہ اس کے بجالانے سے سنت پر ہنسیں گے تو وہاں اس غیر مؤکدہ اورمؤکدہ کے اس طریقہ خاصہ کا ترك ہی مصلحت ہوتاہے کہ ایك استحباب کے لئے لوگوں کا دین کیوں فاسد ہو سنت پر ہنسنا معاذ اﷲ کفر تك لے جاتا ہے اور مسلمانوں کو کفر سے بچانا فرض ہے مسئلہ خفاض نساء میں علماء نے اس دقیقہ کی تصریح کی ہے نیز شملہ عمامہ میں فرمایا کہ جہاں جہاں اس پر ہنستے ہیں اور دم سے تشبیہ دیتے ہوں وہاں شملہ نہ چھوڑا جائے،باہم عورتوں کا یا عورتوں سے السلام علیکم کی حالت قریب قریب ایسی ہی ہے اور اسے اچنبا جانیں گے اور اس پر ہنسنے کا احتمال ہے اور لفظ سلام اس کا قائم مقام، قالوا سلاما قال سلام تو اس پر اکتفا مناسب۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۹:از مقام کیلا کھیڑا تحصیل باز پور ضلع نینی تال مسئولہ عبدالمجید خاں مدرسہ زنانہ بروز شنبہ بتاریخ ۱۱ صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
احوال اینست کہ بابت مصافحہ کے کوئی کہتا ہے کہ بعد نماز کے نہیں کرنا چاہئے اور کوئی کہتا ہے کہ بعد نماز کے کرنا چاہئے لہذا آپ سے معروض ہوں کہ کون سا قول صحیح تر ہے۔اور طریقہ بھی صاف الفاظوں میں تحریر فرمائیں تاکہ مخالف زیر ہو۔
الجواب:
نمازوں کے بعد مصافحہ صحیح یہ ہے کہ جائز ہے۔نسیم الریاض میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع