30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
علی حرمتہ والنھی عنہ۔[1]واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
وہ مسئلہ ہوتاہے کہ جس کی حرمت پر اہل عالم کا اتفاق ہو او ر اس سے منع کیا گیا ہو۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۱۵۷: مرسلہ جناب محمد زاہد بحش صاحب از ملك بنگالہ ڈاکخانہ ڈام اکانڈہ موضع فرید پور ضلع میمن سنگھ ۴ جمادی الاولٰی ۱۳۳۲ھ
ایك پیر مرید کرتا ہے اس طریقہ پر کہ اول نَے،ڈھول اور طنبورہ اور مردنگ اور سارنگی اور ستار اور بیلا اور تالی بجانا اور گیت گانا اور ناچنا شروع کرتاہے تو پھر بے ہوش ہوتا ہے۔اور گانا اور بجانا ایسی زورسے کرتاہے کہ ایك میل سے سنا جاتاہے۔اور اس پیرکے نزدیك جب سب مرید آتے ہیں اول سجدہ کرتے ہیں یا کہ قدم چومتے ہیں تو اس شرط میں اس ملك کے عالم منع کرتے ہیں اور وہ پیر یہ جواب دیتے ہیں کہ سجدہ کرنا قرآن میں جائز ہے پیرکو۔سورہ یوسف کی اس آیت میں
" وَرَفَعَ اَبَوَیۡہِ عَلَی الْعَرْشِ وَخَرُّوۡا لَہٗ سُجَّدًا ۚ"[2]۔اور حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے والدین کو اوپر کرکے تخت پربٹھایا اور وہ سب اس کے لئے سجدہ میں گرگئے۔ت)اورع وہ پیر یا کہ وہ مرید امامت کریں تو ان کے پیچھے اقتداء کرنے سے نماز درست ہوگی یا نہیں؟
الجواب:
مزامیر ناجائز ہیں اور سجدہ غیر خدا کو حرام قطعی ہے۔اور قرآن عظیم کی طرف اس کے جواز کی نسبت کرنا افتراء ہے۔قرآن عظیم نے اگلی شریعت والوں کا واقعہ ذکر فرمایا ہے ان کی شریعت میں سجدہ تحیت حلال تھا ہماری شریعت نے حرام فرمادیا تو اب اس سے سند لانا ایسا ہے جیسے کوئی شراب کو حلال بتائے کہ اگلی شریعتوں میں جہاں تك نشہ نہ دے حلال تھی بلکہ شریعت سیدنا آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام میں سگی بہن سے نکاح جائز تھا اب اس کی سند لاکر جو حلال بتائے کافر ہوجائے گا،ایسے پیر اور ایسے مریدوں کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے کہ پڑھنا گناہ ہے اور پڑھی ہو تو پھیرنا واجب ہے۔اور انھیں امام بنانا ناجائز ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۸ تا ۱۶۳: ۱۲ جمادی الاولٰی ۱۳۳۲ھ
(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسلمان نے دوسرے سے السلام علیکم کہا دوسرے نے بھی جواب میں السلام علیکم ہی کہا دیگر یہ کہ سلام کے جواب میں آداب بندگی،تسلیمات وغیرہ وغیرہ کہے ایسی صورت میں اول السلام علیکم کہنے والا خاموش رہے یا کیا کہے اور جواب سلام کا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع