30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وحملہ علیہ فرط الشوق والحب الطافح [1]۔ |
اسے اس پر باعث ہو۔ |
پھر فرماتے ہیں:
|
الاانی اتحفك بامر یلوح لك منہ المعنی بان الشیخ الامام السبکی وضع خد وجہہ علی بساط دارالحدیث التی مسھا القدم النووی یسأل برکۃ قدمہ وینوہ بمزید عظمۃ کما اشار الی ذٰلك بقولہ و فی دارالحدیث لطیف معنی* الی بسط لہ اصبو واٰوی* لعلی ان انال بحر وجھی *مکان مسہ قدم النواوی *وبان شیخنا تاج العارفین امام السنۃ خاتم المجتہدین کان یمرغ وجہہ ولحیتہ علی عتبۃ البیت الحرام بحجر اسمعیل [2]۔ |
یعنی علاوہ بریں میں تجھے یہاں ا یك ایسا تحفہ دیتا ہوں جس سے معنی تجھ پرظاہر ہوجائیں وہ یہ کہ امام اجل تقی الملۃ والدین سبکی دارالحدیث کے اس بچھونے پر جس پر امام نووی قدس سرہ العزیز قدم رکھتے تھے ان کے قدم کی برکت لینے اور ان کی زیادت تعظیم کے شہرہ دینے کو اپنا چہرہ اس پر ملا کرتے تھے جیسا کہ خود فرماتے ہیں کہ دارالحدیث میں ایك لطیف معنی ہے جس کے ظاہر کرنے کا مجھے عشق ہے کہ شاید میرا چہرہ پہنچ جائے اس جگہ پر جس کو قدم نووی نے چھوا تھا اور ہمارے شیخ تاج العارفین امام سنت خاتمہ المجتہدین آستانہ بیت الحرام میں حطیم شریف پر جہاں سیدنا اسمعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام کا مزار کریم ہے اپنا چہرہ اور داڑھی ملا کرتے تھے۔ |
بالجملہ یہ کوئی امر ایسا نہیں جس پر انکار واجب ہو جبکہ اکابر صحابہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم اور اجلہ ائمہ رحمہم اﷲ تعالٰی سے ثابت ہے تو اس پر شورش کی کوئی وجہ نہیں اگر چہ ہمارے نزدیك عوام کو اس سے بچنے ہی میں احتیاط ہے امام علامہ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی حدیقہ ندیہ میں شرح طریقہ محمدیہ میں فرماتے ہیں:
|
المسألۃ متی امکن تخریجھا علی قول من الاقوال فی مذھبنا اومذھب غیرنا فلیست بمنکر یجب انکارہ و النھی عنہ وانما المنکر ماوقع الاجماع |
جب کسی مسئلے کی ہمارے مذہب کے اقوال میں سے کسی قول پر یا کسی دوسرے مذہب پر تخریج ممکن ہو تو ایسا مسئلہ قابل انکارنہیں ہوتا کہ جس کا انکار واجب ہو اور اس سے منع کیا جائے قابل انکار |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع