30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ائمہ دین فرماتے ہیں:
|
الظن الخبیث انما ینشؤ عن قلب الخبیث [1]۔ |
خبیث گمان خبیث دل ہی سے پیدا ہوتا ہے۔(ت) |
مگر حضرات وہابیہ سے کیا شکایت کہ وہ حضرت مولوی اور حضرت سید العارفین بایزید بسطامی او ر ان غوث گرامی سب کو جیسا دل میں جانتے ہیں معلوم وہ تو ان تابعین پر بھی حکم شرك ہی لگائیں گے جنھوں نے روضہ انور کا طواف کیا،مگر شاہ ولی اﷲ صاحب کا معاملہ ذرا ٹیڑھی کھیر ہے۔ ع
پتھر کے تلے دبا ہے دامن
شاہ صاحب یہاں محض سکوت نہیں کررہے ہیں بلکہ مریدین ومستفیدین کو تعلیم فرمارہے ہیں اور اگر اسے بھی اوڑھ لیجئے کہ اس وقت شاہ صاحب کو تعلیم حرام ہی کا کچھ ذوق تھا تو ذرا تقویۃ الایمان کی گولی بچاتے ہوئے کہ نرا حرام ہی نہیں بلکہ شرك سکھارہے ہیں اور اس پر بڑی بشاشت سے فرمارہے ہیں کہ یوں کرو تو ان شاء اﷲ تعالٰی یہ حاصل ہوجائے گا،عاقل تو جانتا ہے کہ کسی مکروہ وناگوار بات پر بھی ایسا نہیں کہا جاتا نہ کہ شرك وکفر،دھر م سے کہنا اگر دھرم رکھاتے ہو کہ کیا شاہ صاحب یہ لکھ سکتے تھے کہ اے مریدو عزیزو! روز صبح کو مندر میں جاکر سات دفعہ مہا دیوجی ڈنڈوت کرو توان شاء اﷲ تعالٰی تین تلوك کھل جائیں گے۔تقویۃ الایمان کے حکم پر شاہ صاحب کے اس کلام اور اس قول کے حکم میں کیا فرق ہوسکتا ہے۔ہاں یہ امر ضرور قابل لحاظ ہے کہ یہاں نیت جائز ونیت حرام ایسی متقارب ہیں جیسے آنکھ کی سیاہی سے سپیدی تو عوام کے لئے اس میں ہر گزخیر نہیں اور خواص میں سے جو ایسا کرنا چاہے ہر گز عوام کے سامنے نہ کرے۔ہر سخن وقتے وہر نکتہ مقامے وارد(ہر بات کا وقت ہے اور ہر نکتے کا محل ہے۔ت)یہ بحمداﷲ تعالٰی تحقیق حکم ہے اور احتراز واحتیاط ہر طرح اسلم ہے۔وباﷲ التوفیق،واﷲ تعالٰی اعلم۔(اور اﷲ تعالٰی ہی کے کرم سے حصول توفیق ہے۔اور اﷲ تعالٰی سب سے بڑا عالم ہے۔ت)
مسئلہ ۱۵۳ و ۱۵۴: مسئولہ سید محمد میاں ۱۷ شوال المکرم۱۳۳۶ھ
حضرت مولانا صاحب معظم مکرم دامت برکاتہم العالیہ پس از تسلیم مع التعظیم والتکریم معروض کل جو فتوٰی جناب سے لایا تھا اس کے متعلق بعض امور دریافت طلب رہے:
(۱)جناب فرماتے ہیں کہ نفس طواف سے تعظیم امر تعبدی ہے۔امر تعبدی سے یہاں کیا مرا دہے اور پھر اس تعظیم سے امر تعبدی ہونے کا کیا ثبوت ہے۔؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع