30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وسلم فقال انما یطوفون باعواد ورمۃ [1]۔ |
نہایت ملعون لفظ کہا جس پر فقہاء کرام نے اس کی تکفیر کی۔ |
وہ زمانہ بکثرت صحابہ کرام کی رونق افروز کا تھا خصوصا مدینہ طیبہ میں تویہ طواف کرنے والے حضرات اگر صحابہ کرام نہ تھے لااقل تابعین تھے۔عارف باﷲ حضرت مولوی قدس اﷲ سرہ المعنوی مثنوی شریف میں فرماتے ہیں:؎
(۱) سوئے مکہ شیخ امت بایزید از برائے حج وعمرہ می روید
(۲) دید پیرے باقدے ہمچوں ہلال بود در وے فرد گفتاری رجال۔
(۳) بایزید او راچو ازاقطاب یافت مسکنت بنمود ودرخدمت شتافت
(۴) گفت عزم تو کجا اے بایزید رخت غربت راکجا خواہی کشید
(۵) گفت قصہ کعبہ دارم ازولہ گفت بین باخود چہ داری زادرہ
(۶) گفت دارم از درم نقرہ ویست نك بہ بستد سخت برگوشہ رویست
(۷) گفت طوفے کن بہ گردم ہفت بار دین نکوترا ز طواف حج شمار
(۸)حق آں حقے کہ جانت دیدہ است کہ مرا بربیت خود بگزیدہ است
(۹)کعبہ ہرچندے کہ خانہ براوست خلقت من نیز خانہ سراوست
(۱۰)تابکرد آں خانہ رادروے نہ رفت واندریں خانہ بجزآں حی نرفت
(۱۱) چوں مراد دیدی خدا رادیدہ گرد کعبہ صدق برگردیدہ
(۱۲)خدمت من طاعت حمد خدا ست تانہ پنداری کہ حق از من جدا ست
(۱۳) چشم نیکوں بازکن درمن نگر تابہ بینی نور حق اندر بشر
(۱۴)کعبہ را یکبار بیتے گفت یار گفت یاعبدی مراہفتادبار
(۱۵)بایزید اکعبہ را دریافتی صدبہاء وعزیز وصدفریافتی
(۱۶) بایزید آں نکتہاراہوش داشت ہمچو زریں حلقہ اش درگوش داشت
(۱۷) آمدا زوے بایزید اندر مزید منتہی درمنتہٰی آخر رسید [2]
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع