30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شفاء شریف میں ہے:
|
کان مالك اذا ذکر النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یتغیر لونہ وینحنی حتی یصعب ذٰلك علی جلسائہ [1]۔ |
سیدنا امام مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے سامنے جب حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ذکر پاك آتا ان کا رنگ بدل جاتا اور جھك جاتے یہاں تك کہ حاضران مجلس کو ان کی وہ حالت دشوار گزرتی۔ |
حدیقہ ندیہ میں ہے:
|
الانحناء البالغ حدالرکوع لایفعل لاحد کالمسجود و لاباس بما نقص من حدالرکوع لمن یکرم من اھل الاسلام [2]۔ |
یعنی رکوع کی حد تك جھکنا کسی غیر خدا کے لئے نہ کیا جائے جیسے سجدہ اور دینی عزت والوں کے لئے رکوع سے کم جھکنے میں حرج نہیں۔ |
جب یہ امور سب معلوم ہولئے تو منجملہ اوضاع تعظیمیہ کہ رب عزوجل نے اپنی عبادت کے لئے مقرر فرمائے دونوں قسم کا طواف بھی ہے مستقیم جیسے صفا ومروہ میں خواہ مستدیر جیسے گر د کعبہ دونوں عبادت ہیں اور دونوں کو قرآن عظیم میں طواف فرمایا۔تو ان میں فرق بے معنی ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ طواف ان انواع ثلثہ سے کس نوع میں ہے۔ہر عاقل کے نزدیك بدیہیات سے ہے کہ وہ مثل سجود نوع اول سے نہیں ورنہ سجدہ غیر کی طرح مطلقًا حرام ہوتا حالانکہ اس کی تین قسم اول کا جواز و وقوع ہم قرآن عظیم وحدیث کریم وخود فعل حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے ثابت کرآئے نہ ہر گز وہ مثل قیام نوع سوم سے ہے ورنہ ہر شخص و مکان معظم کا طواف تعظیمی جائز ہوتا بلکہ وہ مثل رکوع نوع متوسط سے ہے کہ اگر نفس طواف سے تعظیم مقصود ہو تو غیر خدا کے لئے ناجائز بلکہ غیر کعبہ وصفا ومروہ کا طواف اگرچہ خالصا اﷲ عزوجل ہی کی تعظیم کو کیا جائے، ممنوع وبدعت ہے کہ نفس طواف سے تعظیم امر تعبدی اور امر تعبدی میں قیاس تك جائز نہیں۔نہ کہ احداث کہ تشریع جدید ہے۔منسك متوسط میں ہے:
|
ولایمس عند الزیارۃ الجدار ولایلتصق بہ ولا یطوف ولایقبل الارض فانہ |
زیارت روضہ اقدس کے وقت دیواروں کو ہاتھ نہ لگائے اورنہ ان سے چمٹے اورنہ ان کے آس پاس طواف کرے(یعنی چکر لگائے)اور نہ جُھکے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع