30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مگر نہ خود مقصود بلکہ وسیلہ جیسے علماء وصلحاء کی قدمبوسی وغیرہ خدمات کو جھکنا اور بذاتہٖ مقصود بھی ہوتاہے جیسے سلام کرنے میں رکوع تك جھکنا۔
تیسرے وہ کہ نوع اول سے بعید ہیں جیسے قیام یا قعود یا رکوع سے کم جھکنا،ظاہر ہے کہ ان میں بھی نوع دوم کی طرح قصد و توسل وغایت مختلفہ کی سب صورتیں پائی جاتی ہیں۔
انواع ثلثہ میں حکم عام تو یہ ہے کہ اگر بہ نیت عبادت غیر ہے تو کچھ بھی ہو مطلقًاشرك وکفر ہے۔اور بے نیت عبادت ہر گز شرك وکفر نہیں اگر چہ سجدہ ہی ہو جب تك کہ وہ فعل بخصوصہ شعار کفر نہ ہوگیا ہو،جیسے بت یاآفتاب کو سجدہ۔والعیاذ باﷲ تعالٰی(اﷲ تعالٰی کی پناہ۔ت)اور جب عبادت غیر کی نیت سے نہ ہو تو ان میں فرق احکام یہ ہے کہ نوع اول غیر خدا کے لئے مطلقًا ناجائز،اور نوع دوم اس وقت ممنوع ہے جبکہ مقصودًا اسی کو بہ نیت تعظیم بجالایا جائے،اور نوع سوم مطلقًا جائزہے اگرچہ اس سے تعظیم مقصو دہو۔ اختیار شرح مختار وفتاوٰی عالمگیریہ وغیرہا میں حاضر ی روضہ اقدس کی نسبت فرماتے ہیں:یقف کما یقف فی الصلوٰۃ [1]حضور کے روضہ انور میں نماز کی طرح کھڑا ہو،منسك متوسط ومسلك متقسط میں ہے:
|
(ثم توجہ)ای بقلب والقالب مع رعایۃ غایۃ الادب فقام تجاہ الوجہ الشریف خاضعا خاشعا مع الذلۃ و الانکسار والہیبۃ والافتقار واضعار یمینہ علی شمالہ ای تأدبادفی حال اجلالہ [2]۔ |
یعنی پھر نہایت ادب کی رعایت کے ساتھ روضہ اقدس کی طرف دل اور بدن دونوں سے منہ کرکے چہرہ انور کے مقابل خضوع وخشوع و ذلت وانکسارا ور حضوری کی ہیبت اور حضور کی طرف محتاجی کے ساتھ سیدھا ہاتھ بائیں پر حضور کے ادب وتعظیم کےلئے باندھے ہوئے کھڑا ہو۔ |
صحیح حدیث میں ہے صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم حضور کے سامنے ایسے بیٹھتے کان علی رؤسہم الطیر [3] گویا ان کے سروں پر پرندے ہیں یعنی بے حس وحرکت کہ پرندے لکڑی سمجھ کر سر پر آبیٹھیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع