30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قال سلیمان لاطوفن اللیلۃ علی تسعین امرأۃ وفی روایۃ بمائۃ امرأۃ کلھن تاتی بفارس یجاھد فی سبیل اﷲ فطاف علیھن [1] الحدیث۔ |
سلیمان علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا قسم ہے آج کی رات میں نوے اور ایك روایت میں سو عورتوں پر طواف کروں گا کہ ہر ایك سے ایك سوار پیدا ہوگا جو اﷲ تعالٰی کی راہ میں جہاد کرے۔ پھر انھوں نے ان کا طواف کیا۔ |
صحیح مسلم شریف میں انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے:
|
کان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یطوف علی النساء بغسل واحد [2]۔ |
نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایك ہی غسل سے اپنی ازواج مطہرات پر طواف کرتے۔ |
اشباہ والنظائر ودرمختار میں ہے:
|
لیس لنا عبادۃ شرعت من عھد اٰدم الی الاٰن ثم تستمر فی الجنۃ الا النکاح والایمان [3]۔ |
ہمارے لئے کوئی عبادت ایسی نہیں کہ آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وقت سے اب تك مشروع ہے پھر ہمیشہ ہمیشہ جنت میں مشروع رہے گی مگر ایمان یعنی یاد خدااور نکاح یعنی جماع زوجہ۔ |
قسم چہارم:طواف بھی مقصود لذاتہ ہو اور غرض وغایت بھی تعظیم یعنی نہ طواف کسی اور فعل کے لئے وسیلہ ہو نہ اس سے سوائے تعظیم کچھ مقصود بلکہ نفس طواف سے محض تعظیم مقصود ہو۔اسی کا نام طواف تعظیمی ہے جیسے طواف کعبہ یا طواف صفا ومروہ۔پھر اوضاع بدن کہ عبادت میں مقرر کئے گئے ہیں تین نوع ہیں۔
ایك وہ کہ تعظیم میں منحصر ہے۔
اور دوسرے وہ کہ وسیلۃً ومقصودا دونوں طرح پائے جاتے ہیں اور ان کی غایت تعظیم میں منحصر نہیں مگر بحال قصد تعظیم نوع اول سے قریب ہیں جیسے رکوع تك انحنا کہ بلا تعظیم بھی ہوتا ہے۔بلکہ بقصد توہین بھی جیسے کسی کے مارنے کےلئے اینٹ وغیرہ اٹھانے کو جھکنا،اور تعظیم کے لئے بھی ہوتا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع