30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قال اﷲ تعالٰی " وَلْیَطَّوَّفُوۡا بِالْبَیۡتِ الْعَتِیۡقِ ﴿۲۹﴾"[1]۔ |
اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا:لوگوں کو چاہئے کہ اس کے قدیم (آزاد)گھر کا طواف کریں۔(ت) |
حقیقت طواف اس قدرہے۔نیت وغایت کا اختلاف حقیقت کی تغییر نہیں کرتا کہ نیت وغایت رکن شے نہیں۔آخر نہ دیکھا کہ ائمہ کرام نے نیت کو شرط نماز قرار دیا نہ کہ رکن نماز،اور غایت کا خروج تو غایت ظہور میں ہے۔غرض پھیرے کرناجہاں اور جس طرح اور جس نیت اور جس غرض سے ہو طواف ہی ہے۔پھر فعل اختیاری کوتصور بروجہ مّا وتصدیق بفائدۃمّا سے چارہ نہیں مگر فعل کبھی غایت اصلیہ تك آپ مؤدی ہوتا ہے کبھی دوسرے فعل مؤدی الی الغایۃ کا وسیلہ اول کو مقصود لذاتہ کہتے ہیں جیسے نماز اور دوم کو وسیلہ ومقصودلغیرہ جیسے وضو،طواف میں یہ دونوں صورتیں ہیں مثلا گلگشت یعنی تفریح نفس وشم وروائح طیبہ و چستی بدن وتنسم ہو اکے لئے چمن کی روشوں میں ٹہلنا پھرنا خواہ وہ خطوط مستقیم پر ہو یا مثلا کسی حوض کے گردمستدیریہاں طواف مقصود لذاتہٖ ہے یا مثلا کسی شیئ کی تقسیم کو حلقہ یاصفوں پہ دورہ کرنا یہاں مقصود لغیرہٖ ہے۔پھر طواف کی غایت مقصودہ تعظیم ہی میں منحصر نہیں بلکہ اس کے غیر کے لئے بھی ہوتا ہے جیسے امثلہ مذکورہ بلکہ توہین بلکہ تعذیب کے لئے جیسے ڈرل کہ یہاں آمدوشد کہ طواف ہے مقصود لذاتہٖ ہے اور نا ر سے حمیم،حمیم سے نار کی طرف کفار کے پھیرے کہ یہ طواف مقصود لغیرہ ہے اور دونوں تعذیب کے لئے ہیں۔
|
قال اﷲ تعالٰی " یَطُوۡفُوۡنَ بَیۡنَہَا وَ بَیۡنَ حَمِیۡمٍ اٰنٍ ﴿ۚ۴۴﴾"[2]۔ |
اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا:وہ دوزخی اس کے یعنی آگ اور گرم اور ابلتے ہوئے پانی کے درمیان چکر لگائیں گے۔(ت) |
لاجرم طواف چار۴ قسم ہے:
قسم اول:نہ طواف مقصود لذاتہٖ ہو نہ اس سے غرض وغایت نفس تعظیم بلکہ طواف کسی اورفعل کا وسیلہ ہوا ور اس فعل سے کوئی اور حاجت مقصود جیسے سائلوں کا دروازوں پر گشت،صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم ہمیشہ کاشانہ نبوت کا ایسا طواف فرمایا کرتے،ابوداؤد وابن ماجہ ودارمی ایاس بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع