30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرمایا:
|
لم اکن بالذی احلقہا وقد مسھا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بیدہ [1]۔ |
میں وہ نہیں ہوں جوان بالوں کو مونڈ ڈالوں کہ جن کو حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے مبارك ہاتھ لگے ہیں۔(ت) |
حالانکہ انحناء اورقزع کا حکم اہل علم پر ظاہر ہے اور حضرت کا بس بن ربیعہ کی صورت سرکار دو عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی صورت کے مشابہ تھی پس حضرت معاویہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو خبر ہوئی آپ نے ان کو بلایا پس جب وہ ان کے گھر میں داخل ہوئے توحضرت امیر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اپنے تخت سے اتر کر ان سے ملاقات کی اور دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور ایك گاؤں مرغاب نام ان کو دیا یہ سب حضور کی صورت مبارك کے مشابہ ہونے کی وجہ سے کیا ؎
باادب باعظمت انسان دیگر اند بے ادب ہم خشك مغزاں دیگر اند
(باادب عظمت وشرف والے انسان اور ہیں۔اور بے ادب خشك مغز رکھنے والے(انسان)اور ہیں۔ت)
پس زید کا یہ جواب صحیح ہے یانہیں؟ بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
اقول:وباﷲ التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق(میں کہتاہوں اور اﷲ ہی کی طرف سے توفیق ہے اور اسی سے تحقیق کی بلند یوں تك پہنچنا۔ت)طواف لغۃً وعرفًا وشرعًا پھیرے کرنے کو کہتے ہیں عام ازیں کہ دو چیزوں کے درمیان آمد ورفت ہو جس میں ایك پھیرے کے مبدا ومنتہی متغائر ہوں گے یا ایك ہی چیز کے گرد جس میں دائرہ کی طرح مبداء ومنتہٰی ایك ہوگا،دونوں صورتوں کو لغت وعرف عرب نے طواف کہا اور دونوں کو شرع مطہر نے طواف مانا،صورت اولٰی صفا ومروہ کے درمیان سعی۔
|
قال اﷲ تعالٰی "فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِ اَنۡ یَّطَّوَّفَ بِہِمَاؕ"[2]۔ |
اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا:اس شخص پرکوئی گناہ نہیں جو صفا و مروہ کے درمیان چکر لگائے۔(ت) |
اور صورت ثانیہ کعبہ معظمہ کے گرد پھرنا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع