30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اوریہ ظاہر ہے کہ بعض اعمال کی صورت ایك ہوتی ہے لیکن نیت کے اختلاف سے حکم مختلف ہوجاتا ہے جیسے سجدہ تحیت اور سجدہ عبادت کہ صورت دونوں کی ایك ہے مگر حکم مختلف کہ پہلا حرام موجب فسق اور دوسرا شرك پس پہلی صورت تو ہم سنی حنفیوں کے نزدیك بھی بالاتفاق ناجائز ہے۔اور صاحب بحر اورنہر وغیرہما کا عدم جواز کا قول اسی صورت پر محمول ہے اور دوسری صورت میں اختلاف ہے بعض غیر حسن فرماتے ہیں اوربعضے مستحسن کہتے ہیں۔فاضل بدایونی علیہ الرحمۃ بوارق محمدیہ ہی میں فرماتے ہیں:
|
وکراہت ایں اشیاء مختلف فیہ بین الفقہاء وہمچو امور باعث نکیرو نفریں برمرتکبین ہم نمی تواند شد چہ جائے تکفیر چراکہ بسیارے از اکابر تصریح بجواز آں کردہ اند گو نزد جماعتے رجحان بجانب عدم استحسان است وفقیر ہم بہمیں مسلك سالك است [1]اھ۔ |
ان چیزوں کی کراہت عندالفقہاء"مختلف فیہ"ہے۔یعنی ایك اختلافی چیز ہے۔اور اس قسم کے امور موجب انکار،اور ارتکاب کرنے والوں پر طعن و تشنیع بھی نہیں ہوسکتے،چہ جائیکہ ان کی تکفیر کی جائے،کیوں؟ اس لئے کہ بہت سے اکابر نے اس کے جائزہونے کی تصریح کی ہے۔گو ایك گروہ کا عدم استحسان کی طرف رجحان اورمیلان ہے۔اور یہ فقیر بھی اسی مسلك کے مطابق گامزن ہے۔اھ(ت) |
مگر مماثلث تعریف قول باستحسان کی صحت کی مقتضی ہے کما لایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)اور علاوہ اس کے یہ ہے کہ محبت اور عظمت کی بھری ہوئی آنکھیں وہ دیکھا کرتی ہیں جو ان سے خالی آنکھیں نہیں دیکھتیں اور ان آنکھوں والوں کے واسطے وہ جائز ہوتا ہے۔جو ان آنکھوں والوں کے واسطے نہیں ہوتا کیا اس کونہیں دیکھا جاتا کہ علی مافی الشفاء حضرت امام مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے پاس حضور کا اسم شریف لیا جاتا تو ان کے چہرہ کا رنگ متغیر ہوجاتا اور آپ جھك جاتے۔آپ کے جلساء کو یہ بات ناگوار گزرتی،ایك روز عرض کیا کہ یہ آپ کیا کرتے ہیں۔فرمایا:
|
لو رأیتم لما انکرتم علی ماترون [2]۔ |
اگر تم لوگ وہ کچھ دیکھتے جو میں دیکھتاہوں تو پھر تم اس کا رروائی پر انکار نہ کرتے جو مجھ سے دیکھتے ہو(ت) |
اور حضرت ابومحذورہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی پیشانی پر کچھ بال تھے اتنے بڑے بڑے کہ جب وہ ان کو بیٹھ کر کھول دیتے تھے تو زمین تك پہنچ جاتے تھے،ان سے کہا گیا:ان کو منڈا کیوں نہیں دیتے؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع