30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
بلاشبہ غیر کعبہ معظمہ کا طواف تعظیمی ناجائز ہے۔اور غیر خدا کو سجدہ ہماری شریعت میں حرام ہے۔اور بوسہ قبر میں علماء کو اختلاف ہے۔اور احوط منع ہے۔خصوصا مزارات طیبہ اولیاء کرام کہ ہمارے علماء نے تصریح فرمائی کہ کم از کم چار ہاتھ کے فاصلے سے کھڑا ہویہی ادب ہے پھر تقبیل کیونکر متصور ہے یہ وہ ہے جس کا فتوٰی عوام کودیاجاتاہے۔اور تحقیق کا مقام دوسرا ہے۔
|
لکل مقام مقال ولکل مقال رجال ولکل رجال مجال ولکل مجال ماٰل نسأل اﷲ حسن مال وعندہ علم بحقیقۃ کل حال۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
ہر جگہ کے لئے ایك مناسب گفتگو ہے اور ہر گفتگو کے لائق کچھ خاص مرد ہیں اور ہر مرد کے لئے کچھ کہنے کی گنجائش ہے۔اور ہر گنجائش کے لئے ایك انجام ہے لہذا ہم اﷲ تعالٰی سے اچھا انجام چاہتے ہیں کیونکہ اسی کے پاس ہر حال کا حقیقی علم ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۱۵۲: از بنارس محلہ پتر کنڈا مرسلہ مولوی محمد عبدالحمید صاحب پانی پتی ۱۷ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
ہمارے سنی حنفی علماء کثرھم اﷲ تعالٰی وابقاہم الی یوم الجزاء(اﷲ تعالٰی انھیں زیادہ کرے اور روزقیامت تك انھیں باقی رکھے۔ت)اس میں کیا فرماتے ہیں کہ زید سے خالد نے سوال کیا کہ کسی مقبول بارگاہ رب العزت جل جلالہ کی قبر شریف کے طواف کوبعض علماء حرام بلکہ شرك کہتے ہیں اور بعض جائز فرماتے ہیں پس ان میں صحیح قول کس کا ہے۔زید نے جواب دیاکہ اس زمانہ میں جو لوگ اپنے کو حنفی کہتے ہیں ان میں تین فرقے ہیں:
(۱)اسحاقیہ،شاہ اسحاق کا پیرو۔
(۲)اسمعیلیہ،مولوی اسمعیل دہلوی کا متبع۔
(۳)سنی حنفی،حضرت مولانا فضل رسول بدایونی علیہ الرحمۃ اور حضر ت مولانا احمد رضاخاں صاحب بریلوی دام ظلہ کا مطیع۔
پس(۱)اور(۲)کے نزدیك بالاتفاق غیر کعبہ شریف کا طواف مثل سجدہ تحیہ کے ہے لیکن اس کے حکم میں دونوں میں اختلاف ہے پہلے فرقہ کے نزدیك حرام ہے۔اور دوسرے کے نزدیك شرك چنانچہ مائۃ مسائل اور مسائل اربعین اور تقویۃ الایمان دیکھنے والے پر یہ بات ظاہر ہے۔حالانکہ بغیر دلیل قطعی کے یہ حرام اور شرك کہنا خود انھیں کے گھرمیں آگ لگانا ہے کہ ان کے بزرگوار شاہ ولی اﷲ کو مرتکب حرام اور مشرك بنانا ہے کہ انھوں نے اپنی کتاب انتباہ میں اس کے کرنے کاحکم کیا اور (۳)فرقے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع