30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جاری وساری رہا اور محمود سمجھا گیا ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
اولیاء وعلماء ومعظمان دین کے ہاتھ پاؤں چومنا مستحب ہے بلکہ مسنون ہے۔صحابہ کرام بلکہ خود زمانہ رسالت سے رائج ہیں جس پر بکثرت حدیثیں ہم نے اپنے فتاوٰی میں ذکر کیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۷ و ۱۴۸: از سرنیاں ضلع بریلی مرسلہ امیر علی صاحب قادری ۴ رجب ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
(۱)قرآن شریف پڑھنے کے وقت سلام کرنا یا لینا کیسا ہے؟
(۲)کن شخصوں کی تعظیم کے لئے تلاوت قرآن مجید کی موقوف کرسکتاہے؟ بینوا توجروا
الجواب:
(۱)قرآن شریف پڑھنے والے پر سلام کرنا ناجا ئز ہے اور اسے اختیار ہے کہ جواب نہ دے،اور قرآن پڑھنے والے کو دوسرے پر سلام کرنے کی اجازت ہے جبکہ وہ معظیم دینی ہو یا اسے سلام نہ کرنے میں اندیشہ مضرت ہو۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۲)قرآن شریف پڑھنے میں کسی کی تعظیم کوقیام جائز نہیں مگر باپ یا علم دین کا استاذ یا پیر ومرشد یا عالم دین یا بادشاہ اسلام یا بمجبوری اس کے لئے کہ اگر قیام نہ کرے تو اس سے ضرر پہنچنے کا ظن غالب ہو۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۹: مسئولہ محمود حسن صاحب از بمبئی پوسٹ بائی کھلا ۲۰ صفر ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد کے اندر نماز سے تمام فارغ ہونے کے بعد مصافحہ کے سوا پاؤں پڑنا جائز ہے یانہیں؟ بحوالہ کتب معتبرہ والہ مع ثبت دو تین علماء ومہر رقم فرمائیں۔بینوا توجروا۔
الجواب:
پاؤں پڑنا بایں معنی کہ پاؤں پر سر رکھنا ممنوع ہے۔اور پاؤں کو بوسہ دینا اگر کسی معظم دینی کی تعظیم دینے کے لئے ہو تو جائز بلکہ سنت ہے احادیث کثیرہ اس پر ناطق ہیں۔کمابیناھا فی فتاوٰنا(جیسا کہ ہم نے ان سب مسائل کو اپنے فتاوٰی میں بیان فرمایا ہے۔ت)اور اگر کسی مالدار کی دنیوی تعظیم کے لئے ہو تو مطلقًا ناجائز ہے۔
|
فی الملتقط والھندیۃ والدر وغیرھا |
فتاوٰی ملتقط،فتاوٰی عالمگیری،درمختار اور |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع