30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قدر کافی ہے کہ آستانہ کو ہاتھ لگا کر اپنی آنکھوں اور منہ پھیرلے جس طرح عبداﷲ بن عمر غیرہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم منبر انور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ کیا کرتے تھے،شفاء شریف میں ہے:
|
روی ابن عمرو اضعایدہ علی مقعبد النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم المنبر ثم وضعھا علی وجہ،وعن ابن قسیط والعتبی کان اصحاب النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا خلا المسجد حسوا امّانۃ المنبر التی تلی القبر بمیامنھم ثم استقبلوا القبلۃ یدعون [1]۔ |
مروی ہے کہ حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما منبر پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بیھٹنے کی جگہ پر اپنا ہاتھ رکھتے پھر اپنے چہرے پر ہاتھ کو رکھتے۔ابن قسیط او رعتبی سے مروی ہے۔کہ صحابہ کرام جب مسجد نبوی میں داخل ہوتے تو قبر انور کے کناروں کو اپنے دائیں ہاتھ سے مس کرتے اور پھر قبلہ رو ہوکر دعا کرتے۔(ت) |
یہ دونوں حدیثیں امام ابن سعد نے کاب الطبقات میں روایت کیں کما فی مناھل الصفا فی تخریج احادیث الشفاء(جیسا کہ مناہل الصفا فی احادیث الشفا میں ہے۔ت) علامہ خفاجی نسیم الریاض میں فرماتے ہیں:
|
وھذا یدل علی جوز التبرك بالانبیاء والصالھین واٰثارھم ومایتعلق بھم مالم یؤد الی فتنۃ اوفساد عقیدۃ و علی ھذا یحمل ماروی عن ابن عمر عــــــہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ من انہ قطع الشجرۃ التی واقعت تحتھا البیعۃ لئلا یفتتن بھا الناس لقرب عھدھم |
یہ واقعہ اس بات پر دال ہے کہ انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام اور صلحاء اور ان کے آثار اور متعلقات سے تبرك حاصل کرنا جائز ہے جبکہ فتنہ اور عقیدے کے فسا د کا احتمال نہ ہو اسی معنی پر محمول ہے جو عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ آپ نے بیعت رضوان والے درخت کو کاٹ دیا تاکہ نو مسلم لوگ |
عــــــہ: کما ھو فی نسختی النسیم وصوابہ عن عمر ۱۲ منہ۔
[1] الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فی حکم زیارۃ قبرہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عبدالتواب اکیڈمی ملتان ۲/ ۷۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع