30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فلما زارہ وقف تجاہ مرقدہ وانشد: ؎ فی حالۃ البعد روحی کنت ارسلھا تقبل الارض عنی فھی نائبتی وھذہ نوبۃ الاشباح قد حضرت فامدد یدیك لکی تحظی بھا شفتی فقیل ان الید الشریفۃ بدت لہ فقبلھا فھنیئًا لہ ثم ھنیئًا [1]۔ |
عرض کربھیجتے،جب خود حاضر آئے مزار اقدس کے سامنے کھڑے ہوئے اور عرض کی: "میں جب دور تھا تو اپنی روح بھیج دیتا کہ میری طر ف سے زمین کو بوسہ دے تو وہ میری نائب تھی،اور اب باری بدن کی ہے۔کہ جسم خود حاضر ہے دست مبارك عطا ہو کہ میرے لب ا س بسے ہرا پائیں۔کہا گیا کہ دست اقدس ان کے لئے ظاہر ہوا انھوں نے بوسہ دیا تو بہت بہت مبارکی ہو ان کو۔ |
علامہ احمد بن مقری فتح المتعال میں فرماتے ہیں جب امام اجل علامہ تقی الملۃ والدین ابوالحسن علی سبکی ملك شام میں بعد وفات امام اجل ابو زکریا مدرسہ جلیلہ اشرفیہ میں دارالحدیث کےدرس دینے پر مقرر ہوئے فرمایا: ؎
وفی دارالحدیث لطیف معنی الی بسط لھا اصبو واٰوی
لعلی ان امس بحر وجھی مکانا مسہ قدم النواوی [2]
"دارالحدیث میں ایك معنی لطیف ہے میں اس کے بستروں کی طرف میل کرتااور قرار پکڑتاہوں شاید میرا چہرا لگ جائے اس جگہ پر جہاں امام نوری کے قدم چھوگئے ہوں۔
خلاصہ امر یہ قرار پایا کہ اگر آستانہ بلند ہو کہ بے جھکے بوسہ دے سکے تو بلا شبہ اجازت ہے۔اور اگر پست خصوصا زمین دوز ہو تو اگر ولی زندہ یا مزار سامنے ہے اس کے مجرے کی نیت سے جھك کر بوسہ دیا تو ناجائز ہے۔اور اگر محض بنظر تبرك وحب اپنے ہی نفس انحنا سے تعظیم مقصود نہ ہو تو کچھ حرج نہیں،ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ تعالٰی ولی التوفیق(یوں تحقیق چاہئے اﷲ تعالٰی ہی توفیق کا مالك ہے۔ت)پھر بھی عالم متقدا اور اسی طرح پیر اور اس شخص کو جس کے کچھ اتباع ہوں کہ اس کے افعال کا اتباع کریں اسے مناسب ہے کہ اپنے عوام متبعین کے سامنے نہ کرے مبادا وہ فرق نیت پر آگاہ نہ ہوں اور اس کے فعل کو سند جان کر بے محل بجالائیں،ایسی حالت میں صرف اس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع