30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور شك نہیں کہ تعظیم وتوہین کا مدار عرف وعادت پر ہے کما حققہ خاتمۃ المحققین سیدنا الوالد قدس سرہ فی اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد(جیسا کہ خاتمۃ المحققین سیدنا الوالد قدس سرہ نے"اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد" میں اس کی تحقیق کی ہے۔ت)تو جس کی تعظیم شرعا مطلوب ہے وہاں جو جو افعال وطرق حسب عرف وعادت قوم کئے جاتے ہیں اسی مطلوب شرعی کی تحت میں داخل ہوں گے جب تك کسی خاص فعل سے نہی شرعی نہ ثابت ہو،جیسے سجدہ یا قبر کی طرف نماز کہ یہ شرعا ممنوع ہیں۔و لہذا امام محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر، پھر علامہ ابن سندھی نے لباب میں اور ان کے سوا اور علمائے کرام نے زیارت اقدس حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں فرمایا:
|
کلمہ کان ادخل فی الادب والاجلال کان حسنًا[1]۔ |
جو کچھ تعظیم واجلال میں زیادہ داخل ہوں خوب ہے۔ |
ابن حجر مکی نے جوہر منظم میں فرمایا:
|
تعظیم النبی صلی تعالٰی علیہ وسلم بجمیع انواع التعظیم التی لیس فیہا مشارکۃ اﷲ تعالٰی فی الالوھیۃ امر مستحسن عند من نور اﷲ ابصارھم [2]۔
" وَ مَنۡ لَّمْ یَجْعَلِ اللہُ لَہٗ نُوۡرًا فَمَا لَہٗ مِنۡ نُّوۡرٍ ﴿۴۰﴾٪ "[3] |
نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم ان جمیع اقسام تعظیم کے ساتھ جس میں حضرت عزت سے الوہیت ہیں شریك کرنا لازم نہ آئے امرمستحسن ہے ان سب کے نزدیك جن کی آنکھیں اﷲ تعالٰی نے روشن کی ہیں یعنی جنھیں نور ایمان بخشا ہے۔ اور جسے اﷲ نور نہ دے اس کے لئے کہیں نور نہیں۔(ت) |
جب یہ اصل کلی معلوم ہو ہوگئی حکم صو ر مسئلہ منکشف ہوگیا آستانہ بوسی پر یہ اعتراض کہ اول چومیں گے پھر پاؤں رکھ کر جائیں گے محض نادانی ہے کعبہ معظمہ ومسجد حرام شریف میں بھی یہی صورت ہے اور ضرورت ایك دوسرے کے منافی نہیں۔منسك متوسط میں ہے:
|
ثم یأتی الملتزم ویأتی الباب ویقبل العتبۃ |
طواف کرنیوالا ملتزم پر آئے اور دروازے پر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع