30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عزت جل وعلا ہے۔قال اﷲ تعالٰی:
|
" وَمَنۡ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللہِ فَہُوَ خَیۡرٌ لَّہٗ عِنۡدَ رَبِّہٖ ؕ"[1] |
جو اﷲ تعالٰی کی حرمتوں کی تعظیم کرے تووہ بہتر ہے اس کے لئے اس کے پروردگار کے یہاں۔ |
وقال تعالٰی:
|
" وَ مَنۡ یُّعَظِّمْ شَعٰٓئِرَ اللہِ فَاِنَّہَا مِنۡ تَقْوَی الْقُلُوۡبِ ﴿۳۲﴾"[2] |
جو اﷲ کے شعاروں کی تعظیم کرے وہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہیں۔ |
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
ان من اجلال اﷲ اکرام ذی الشیبۃ المسلم وحامل القراٰن غیر الغالی فیہ والجافی عنہ واکرام ذی السطان المقسط [3]۔رواہ ابوداؤد عن ابی موسٰی الاشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند حسن۔ |
یعنی بوڑھے مسلمان اور عالم باعمل اور حاکم عادل کی تعظیمیں اﷲ تعالٰی کی تعظیم سے ہیں۔(اسے ابوداؤد نے ابوموسٰی الاشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے بسند حسن روایت کیا۔ت) |
اور علمائے کرام قدیما وحدیثافقہا وحدیثا تصریحات فرماتے ہیں کہ حرمۃالمسلم حیا ومیتا سواء، مسلمانو زندہ ومردہ کی حرمت یکساں ہے،ولہذا علماء نے وصیت فرمائی کہ قبر سے اتنا ہی قریب ہوجتنا زندگی دنیامیں صاحب قبر سے قریب ہوسکتا ہے اس سے زیادہ آگے نہ جائے،عالمگیریہ میں ہے:
|
فی التہذیب یستحب زیارۃ القبور وکیفیۃ الزیارۃ کزیارۃ ذٰلك المیت فی حیاتہ من القرب والبعد کذا فی خزانہ الفتاوٰی [4]۔ |
تہذیب میں ہے زیارت قبورمستحب ہے۔زیارت کی کیفیت یہ ہے کہ جتنا قرب وبعد میت کی زندگی میں اس کی زیارت کے لئے ہوتا تھا بعد مرگ بھی اتناہی ہو،خزانہ الفتاوٰی میں یونہی ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع