30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لؤلون عنہ یوم الجزاء وعلیہم لخروج عن عہدتہ فی دارالقضاء حذر باید کہ خصلت شنیعہ وشنعت قطعیہ ایں مبتدعان بخود سرایت نکند وباﷲ العصمۃ ارے اگر بظواہر احادیث صحیحہ مثل باءبھا بعدھما وحار علیہ وکفر بتکفیرہ [1]، کہ زا عاظم ائمہ محدثین مثل امام مالك و احمد و بخاری ومسلم و ابوداؤد وترمذی وابن حبان درصحاح ومسانید و سنن وخود شان از حضرات عبداﷲ بن عمرو وابوھریرہ وابوذر وابوسعید خدری رضی اﷲ تعالٰی عنہم روایت نمودند نظر کردہ آید خاصہ کہ ایں جہولان رابزعم خودشان ہم بعمل بر ظواہر احادیث جمعہ ونام ست یابفتوائے امام فقیہ ابوبکر اعمش وسائر ائمہ بلخ وبسیاری از ائمہ بخارا کہ مکفر مسلم را مطلقًا کافر گویند عمل نمودہ شود بلکہ ہم بر مذہب مصحح ومعتمد ومختار للفتوٰی کہ اگر تکفیر مسلم نہ بروجہ شتم بلکہ بطور اعتقاد وجزم ست کافر گردد و در درمختار ست بہ یفتی [2]، |
کہتے ہیں یہ قامت کے روز جوابدہ ہوں گے اور ان کو فیصلہ کے وقت اس الزام کا جواب دینا ہوگا،بہت احتیاط کرنی ضروری ہے تاکہ ان لوگوں کی خصلت قبیحہ اور قطعیہ بدبختی کاارتکاب لازم نہ آئے،ہاں کافر ومشرك کہنے کی بناء پر کفر دونوں میں کسی کی ایك پر ضرور عائد ہوتا ہے اور ہلاك کرتا ہے اور کسی کی بلاوجہ تکفیر پرکفر کا حکم لازم ہوتا ہے۔احمد،بخاری،مسلم ابودواؤد،ترمذی،اور ابن حبابن نے صحاح مسانید،سنن میں حضرت عبداﷲ بن عمر،ابوہریرہ ابوذر اور ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے روایت فرمائی ہیں،یہ جاہل لوگ جو کہ ظاہر حدیث پر عمل بزعم خواہش لازم کہلاتے ہیں اور اہل حدیث کہلاتے ہیں ان کوغور کرنا چاہئےکہ ان روایات کا مصداق ہیں یانہیں اور کیا امام فقیہ ابوبکر اعمش اور تمام ائمہ بلخ اور بہت سے ائمہ بخارا کا فتوٰی ہے کہ کسی مسلمان کی تکفیر سے ا نسان مطلقًا کافرہوجاتاہے پر عمل لازم آتا ہے بلکہ معتمد اور صحیح مذہب پر فتوی ہےکہ کسی مسلمان کو بطور اعتقاد جازم کافر قرار دینے سے انسان کافر ہوجاتاہے اور درمختار میں ہے اسی پر فتوٰی ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع