30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لیکن ایك دوسرے کی دیکھا دیکھی اس میں بہت مبالغہ کرتے ہیں۔آیا یہ امر شرعا موجب ثواب ہے یا کسی امر خارجی کی وجہ سے مستوجب عذاب ہے؟ بینوا توجروا(بیان کرو تاکہ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم،نحمدہ،ونصلی علی رسولہ الکریم ط
بوسہ تعظیم شرعا وعرفا انحاء تعظیم سے ہے اسی قبیل سے ہے بوسہ آستانہ کعبہ وبوسہ مصحف و بوسہ نان وبوسہ دست وپائے علماء واولیاء۔
|
وکل ذٰلك مصرح بہ فی الکتب کالدرالمختار [1]من معتمدات الاسفار۔ |
درمختار جیسی دیگر معتمد کتب میں اس تمام کی تصریح کی گئی ہے۔(ت) |
خودا حادیث کثیرہ میں صحابہ رضوان اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین کادست وپائے اقدس حضور پر نور سید یوم المنشور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ومہر نبوت کو بوسہ دینا وارد۔
|
کما فصلنا بعضہ فی کتابنا البارقۃ الشارقۃ علی المارقۃ المشارقۃ۔ |
جیسا کہ ہم نے بعض کو اپنے کتاب البارقۃ الشارقۃ علی المار المشارقۃ میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔(ت) |
اور مانحن فیہ سے اقرب واوفق حدیث عبداﷲ بن عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہما ہے کہ انھوں نے منبر انور سرور اطہر صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے موضع جلوس اقدس کو مس کرکے اپنے چہرے سے لگایا رواہ ابن سعد فی طبقاتہ [2](ابن سعد نے اپنی طبقات میں اسے روایت کیا۔ت)اور صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالٰی علیہم سے مروی کہ رمّانا اعطر کو جو مزار اقدس وازہر پر ہے یعنی اس کے بازو پر جوگول شکل کا ایك کنگرہ سابنا دیتے اسے دہنے ہاتھ سے مس کرکے دعا مانگا کرتے،امام قاضی عیاض رتعت روحہ فی الریاض شفا شریف میں فرماتے ہیں:
|
قال نافع کان ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما یسلم علی القبور اٰتیہ مائۃ مرۃ واکثر یجیئ الی القبر فیقول السلام علی النبی،السلام علی ابی بکر ثم ینصرف ورئی (بمعنی ابصر) واضعا یدہ علی مقعد النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم |
حضرت نافع رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما جب حجرہ پا ك کی قبروں پر سلام کرنے حاضر ہو کر سو سے زائد مرتبہ کہتے"حضور علیہ الصلوٰہ والسلام پر سلام حضرت ابوبکر رضی اﷲ تعالٰی عنہ پر سلام"پھر پلٹتے ہوئے منبر شریف پر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع