30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ماجاء فی من یتزوج المرأۃ ثم یطلقھا قبل ان یدخل بھا رواہ بعین السند ثم قال ھذا حدیث لایصح ابن لہیعۃ یضعف فی الحدیث[1] اھ مختصرًا۔وکذا ضعفہ فی غیر ہذا المحل فالیہ یشیرھنا نعم الاظھر عندی ان حدیث ابن لھیعۃ لاینزل عن الحسن وقد صرح المناوی فی التیسیر ان حدیثہ حسن [2]۔ |
کتاب النکاح میں یہ باب ذکر فرمایا کہ جو شخص کسی عورت سے شادی کرے اور پھر ہمبستری سے پہلے ہی اسے طلاق دے دے(توکیاحکم ہے امام ترمذی نے بالکل بعینہٖ اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح نہیں(کیونکہ اس کی سند میں ابن لہیعہ نامی راوی ہے جسے حدیث کے سلسلے میں ضعیف قرار دیا جاتاہے اھ مختصرا۔یونہی اس مقام کے علاوہ بھی امام ترمذی نے اس کی تضعیف کی ہے لہذا امام ترمذی یہاں اسی طرف اشارہ فرماتے ہیں(یعنی ابن الہیعہ کے ضعف کی طرف)ہاں البتہ میرے نزدیک زیادہ ظاہر یہ ہے کہ ابن لہیعہ کی روایت درجہ حسن سے کم نہیں چنانچہ علامہ مناوی نے"التسیر"میں تصریح فرمائی کہ اس کی حدیث حسن ہے۔(ت) |
ہاں لفظ سلام کے ساتھ ہاتھ کا اشارہ بھی ہو تو مضائقہ نہیں۔
|
اخرج الترمذی قال حدثنا سوید نا عبداﷲ بن المبارک نا عبدالحمید بن بھرام انہ سمع شہر بن حوشب یقول سمعت اسماء بنت یزید تحدث ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم |
امام ترمذی نے تخریج کیا اور فرمایا ہم سے سوید نے بیان کیا ہے۔ان سے عبداﷲ بن مبارک نے بیان کیا۔وہ فرماتے ہیں ہم سے عبدالحمید بن بہرام نے بیان کیا کہ اس نے شہر بن حوشب کو یہ فرماتے سنا کہ میں نے اسماء دختر یزید سے سنا کہ وہ بیان کرتی تھیں کہ ایک دن مسجدمیں رسول اﷲ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع