30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لاسیما وقد اسندہ السیوطی فی الجامع الصغیر الی ابن عمرو فارتفع النزاع وزال الاشکال [1] اھ،اقول: رحم اﷲ مولانا القاری انما حالہ الامام السیوطی علی ت یعنی الترمذی ففیم یرتفع النزاع ویزول الاشکال ثم لیس تضعیف الترمذی لما ظن فان الجمھور ومنھم الترمذی علی الاحتجاج بعمروبن شعیب وبروایتہ عن عن ابیہ عن جدہ بل الوجہ انہ من روایۃ ابن لھیعۃ اذیقول الترمذی،حدثنا قتبیۃ نا ابن لھیعۃ عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال فذکرہ قال الترمذی ہذا حدیث اسنادہ ضعیف وروی ابن المبارک ھذا الحدیث عن ابن لھیعۃ فلم یرفعہ اھ [2] وقد قال فی کتاب النکاح باب |
مذکور ہے اور اس میں پہلے اختلاف گزر چکا ہے۔لیکن معتمد یہ ہے کہ اس کی سند حسن ہے خصوصًاجبکہ امام سیوطی نے جامع صغیر میں اس کو ابن عمرو کی طرف منسوب اور حوالے کیا ہے۔لہذا نزاع ختم اور اشکال زائل ہوگیا۔اھ اقول:(میں کہتاہوں)اﷲ تعالٰی ملا علی پر رحم فرمائے کہ امام سیوطی نے تو اسے"ت"یعنی ترمذی کے حوالے کیا ہے پھر نزاع کیسے ختم اور اشکال کیسے زائل ہوسکتا ہے پھر امام ترمذی کا ضعیف کہنا بھی ملا علی قاری کے خیال اور زعم کے مطابق نہیں اس لئے کہ جمہور نے(جن میں امام ترمذی بھی شامل ہیں) عمرو بن شعیب بروایتہ عن ابیہ عن جدہٖ سے روایت کرنے سے استدلال کیا ہے(لہذا یہ وجہ ضعف نہیں ہوسکتی)بلکہ وجہ ضعف یہ ہے کہ حدیث مذکور ابن لہیعہ کی روایت ہے اس لئے کہ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ ہم سے قتیبہ نے بیان کیا (اس نے کہا)ہم سے ابن لہیمہ نے بیان کیاا س نے عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہٖ سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پھر پوری حدیث ذکر فرمائی (اس کے متعلق)امام ترمذی نے فرمایا اس کی اسناد ضعیف ہے۔اور حضرت عبداﷲ بن مبارک نے حدیث ابن لہیعہ سے غیر مرفوع روایت فرمائی اھ۔اور امام ترمذی نے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع