30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وعلیکم السلام ورحمۃاﷲ وبرکاتہ۔اور اگریہ نہ ہوسکے تو پھر اتنا ہی جوابًا کہہ دو علیکم السلام)اسی سے معلوم ہوا کہ سلام کا جواب فقط سلام ہی سے ہوسکتا ہے اوریہ معلوم ہی ہےکہ لوگوں نے جو الفاظ یاطریقے سلام کے لئے اشارہ وغیرہ کی صورت میں از خود گھڑلئے ہیں ان کی دو صورتیں ہی ہوسکتی ہیں ایک یہ کہ وہ تحیہ ہویعنی سلام تصور ہو اور دوسرے یہ کہ وہ تحیہ یعنی سلام نہ ہو۔بصورت ثانی ذمہ داری پوری نہ ہونا(عدم براءت ذمہ)ظاہر ہے کیونکہ جس بات کاحکم دیا گیا(مامور بہ)وہ تحیہ یعنی سلام ہے اور پہلی صورت میں نہ تو وہ بعینہٖ سلام ہے جیسا کہ ظاہر ہے اور نہ اس سے بہتر(احسن)۔اس لئے کہ خود ساختہ اور بناوٹی چیز منقول اور وارد شدہ سے کسی طرح اچھی قرار نہیں دی جاسکتی۔پس دونوں صورتوں میں سلام کا جواب نہ ہوا۔لہذا واجب کفایہ بذمہ ہر فرد باقی رہا اور ادا نہ ہوا۔(ت)مرقاۃ شریف میں ہے:
|
قد صح بالاحادیث المتواترۃ معنی ان السلام باللفظ سنۃ وجوابہ واجب کذٰلک [1]۔ |
جو احادیث تواتر معنی کے درجے تک پہنچی ہوئی ہیں ان سے بصحت ثابت ہے کہ سلام دینا اس کے الفاظ کے ساتھ سنت ہے اور اس کا جواب دینا بھی اسی لفظ سے واجب ہے۔(ت) |
حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
لیس منا من تشبہ بغیرنا لاتشبہوا بالیھود ولا بالنصاری فان تسلیم الیہود الاشارۃ بالاصابع و تسلیم النصارٰی الاشارۃ بالکف،رواہ الترمذی عن عبد اﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالٰی عنہما وقال اسنادہ ضعیف [2]قال العلامۃ القاری لعل وجہہ انہ من عمرو بن شیعب عن ابیہ عن جدہ وقد تقدم الخلاف فیہ وان المعتمد ان سندہ حسن |
ہمارے گروہ سے نہیں جو ہمارے غیروں کی شکل بنے،نہ یہود سے مشابہت پیدا کر نہ نصارٰی سے کہ یہود کا سلام انگلی سے اشارہ کرنا ہے اور نصارٰی کا سلام ہتھیلی سے اشارہ(امام ترمذی نے اس کو حضرت عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالٰی عنہما کے حوالے سے روایت کیا ہے اور فرمایا اس کی اسناد ضعیف ہے۔ ملا علی قاری نے فرمایا شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ روایت مذکورہ عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کی سند کے ساتھ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع