30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
امام احمد بن حنبل کو دس لاکھ حدیثیں یاد تھیں۔ |
۲۹۴ |
امام بخاری کا کسی حدیث کو نہ جاننا اس بات کو مستلزم نہیں کہ امام ابوحنیفہ وامام مالك بھی اس حدیث کو نہ جانتے تھے۔ |
۲۹۶ |
|
مسند احمد میں تیس ہزار حدیثیں مذکورہیں۔ |
۲۹۴ |
بخاری ومسلم کے کسی حدیث کے بارے میں عدم علم سے اس حدیث کا عدم وجود لازم نہیں آتا۔ |
۲۹۶ |
|
شیخین ودیگر ائمہ حدیث نے احادیث صحاح کے استیعاب کا دعوٰی نہیں کیا۔ |
۲۹۴ |
امام ابوحنیفہ واما م مالك کا زمانہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے زمانہ سے قریب تر اور خیر القرون تھا۔ |
۲۹۶ |
|
ادعائے استیعاب کو فرض کرنے کی صورت میں متعد د خرابیاں لازم آتی ہیں۔ |
۲۹۴ |
زمانہ ابوحنیفہ ومالك میں بوجہ قِلت کذب اور کثرت خیر سند نظیف اور وسائط کم تھے۔ |
۲۹۶ |
|
حضرت عبدالله بن عمر وبن عاص کی روایت کردہ احادیث حضرت ابوہریرہ کی مرویات سے زائدہیں رضی الله تعالٰی عنہم۔ |
۲۹۵ |
ممکن ہے جو حدیث امام ابوحنیفہ ومالك کو پہنچی ہو وہ بخاری ومسلم کو نہ پہنچی ہو یا جو حدیث ان کے پاس بسند صحیح پہنچی ہو وہ بخاری ومسلم تك بذریعہ ضعاف پہنچی ہو۔ |
۲۹۶ |
|
تصانیف محدثین میں عبدالله بن عمرو بن العاص رضی الله تعالٰی عنہ کی روایت کردہ صرف سات سو جبکہ ابوہریرہ رضی الله تعالٰی عنہ کی روایت کردہ پانچ ہزار تین سو احادیث پائی جاتی ہیں۔ |
۲۹۵ |
محدثین اہل جرح وتعدیل میں سے اکثر کو ائمہ حنفیہ سے ایك تعنت ہے۔ |
۲۹۶ |
|
عبدالله بن عمرو بن العاص رضی الله تعالٰی عنہ مصر میں جبکہ ابوہریرہ رضی الله تعالٰی عنہ مدینہ منورہ میں سکونت پذیر تھے۔ |
۲۹۵ |
مناقب امام ابویوسف علیہ الرحمۃ۔ |
۲۹۶ |
|
حضرت ابوہریرہ رضی الله تعالٰی عنہ سے روایت کرنے والے تقریبا آٹھ سو افراد تھے۔ |
۲۹۵ |
امام ابویوسف علیہ الرحمۃ کا امام ابوحنیفہ علیہ الرحمۃ کی وسعت نظر فی الحدیث کا اعتراف۔ |
۲۹۷ |
|
بخاری ومسلم کا علم محیط نہ تھا۔ |
۲۹۶ |
درجہ دوم۔ |
۲۹۷ |
|
سرکاردوعالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے انتہائی قرب رکھنے والے اجلہ صحابہ کرام بھی یہ دعوٰی نہیں کرسکتے تھے کہ انھیں حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے کل اقوال وافعال پر اطلاع ہے۔ |
۲۹۶ |
جو حدیثیں تدوین میں آئیں وہ ساری محفوظ نہیں ہیں۔ |
۲۹۷ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع