30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یقول کنت یوما عندالامام ابی حنیفۃ فی جامع الکوفۃ فدخل علیہ سفین الثوری ومقائل بن حیان وحماد بن سلمۃ وجعفر الصادق وغیرہم من الفقہاء فکلموا الامام اباحنیفۃ وقالوا قد بلغنا انک تکثر من القیاس فی الدین وانانخاف علیک منہ فان اول من قاس ابلیس فناظر ھم الامام من بکرۃ نہار الجمعۃ الی الزوال وعرض علیہم مذہبہ وقال انی اقدم العمل بالکتاب ثم بالسنۃ ثم باقضیۃ الصحابۃ مقدما مااتفقوا علیہ علی مااختلفوا فیہ وحینئذ اقیس فقاموا کلھم وقبلوا یدیہ ورکبتہ وقالوا لہ انت سیدالعلماء فاعف عنافیما مضی منا من وقیعتنا فیک بغیر علم فقال غفر اﷲ لناولکم اجمعین [1] انتھی واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
|
بعد حدیث پھر اجماع امت،پھر اقوال صحابہ کرام پر،جب ان سب میں کوئی مسئلہ نہ پاؤں تو پھر قیاس سے کام لیتا ہوں،یہ مناظرہ جامع مسجد کوفہ میں جمعہ کے دن صبح سے لے کرزوال کے وقت تک جاری رہا۔بالآخر مذکورہ تمام امام اٹھ کھڑے ہوئے اور انھوں نے حضرت امام اعظم رحمۃاﷲ تعالی علیہ کے سر اور زانوؤں پربوسہ دیا اور فرمایا کہ آپ علماء کرام کے سرخیل ہیں اور ہم اس سے پہلے بے خبری میں آپ کے متعلق جو سنی سنائی کہتے رہے وہ ہمیں معاف کردیں۔امام صاحب نے فرمایا:اﷲ تعالٰی بزر گ وبرتر مجھے اورآپ سب کو معاف کردے۔امام عارف عبدالوہاب شعرانی"المیزان" میں فرماتے ہیں حضرت ابومطیع فرمایا کرتے تھے کہ میں جامع مسجد کوفہ میں امام صاحب کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس سفیان ثوری،مقاتل بن حیان حماد بن سلمہ،امام جعفر صادق اور بعض دیگر فقہائے کرام تشریف لائے اور امام صاحب سے گفتگو کرنے لگے کہ ہمیں اطلاع پہنچی کہ آپ دین میں زیادہ ترقیاس سے کام لیتے ہیں لہذا ہم اس طرز عمل سے خوف محسوس کرتے ہیں کیونکہ سب سے پہلے جس نے قیاس کیا وہ شیطان تھا۔ان کی یہ مناظرانہ گفتگو جمعہ کے روز فجر سے لے کر سورج ڈھلنے تک ہوتی رہی۔امام صاحب نے اپنا مذہب ومؤقف ان کے سامنے پیش کیا اور فرمایا:میں عمل کرنے میں کتاب اﷲ کو سب سے مقدم سمجھتاہوں،پھر سنت کو،پھر صحابہ کرام کے متفق فیصلوں کو ان کے اختلافی فیصلوں سے مقدم سمجھتاہوں،اور جب قرآن حدیث اور اجماع صحابہ سے کسی مسئلہ میں براہ راست واضح ہدایت اور مثال نہ مل سکے تو پھر اس وقت قیاس کے ذریعے مسئلے کا حل ڈھونڈتاہوں،یہ سننے کے بعد تمام علماء وفقہاء نے اٹھ کر امام صاحب کے ہاتھوں اور گھٹنوں کو |
[1] میزان الشریعۃ الکبرٰی فصل فی بیان ضعف قول من نسب الامام اباحنیفہ الی انہ یقدم القیاس الخ مصطفی البابی مصر ۱/ ۶۶ و ۶۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع