30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
درحدیث ست کہ مردے حاضر خدمت شدہ عرضہ داشت کہ یا رسو ل اللہ! مراچیزے بنما کہ باویقینم فزاید فرمود بسوئے ایں درخت رفتہ او را بخواں رفت گفت کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ترامیخواند درخت ہماندم آمد وبرسید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سلام گفت بازگرد بازگشت سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آن صحابی را پروانگی داد تابوسہ برسر مبارک وہر دو پائے اقدس زد،الحاکم فی المستدرک وقال صحیح الاسناد ان رجلا اتی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقال یا رسول اﷲ علمنی شیئا ازداد بہ یقینا فقال اذھب الی تلک الشجرۃ فادعھا فذہب الیھا فقال ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یدعوک فجاءت حتی سلمت علی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ثم قال لھا ارجعی فرجعت قال ثم اذن لہ فقبل |
فرمایا:تمھارے شوہر کا کیا حال ہے؟ تو اس نے کہا:اب مجھے اس سے زیادہ کوئی جوان،بوڑھا اور بچہ محبوب نہیں۔آپ نے فرمایا:میں گواہی دیتاہوں کہ یقینا میں اﷲ تعالٰی کا رسول ہوں حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایاٰ میں بھی گواہی دیتاہوں کہ آپ بلا شبہ اﷲ تعالٰی کے رسول ہیں۔ حدیث شریف میں ہے کہ ایک شخص نے آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر عرض کی:اے اﷲ تعالی کے رسول! مجھے کوئی ایسی چیز دکھاؤجس سے میرے یقین میں اضافہ ہو۔ارشاد فرمایا:اس درخت کے پاس جاؤاور اسے کہو کہ تمھیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بلاتے ہیں:وہ شخص اس درخت کے پاس گیا اور اس سے کہا تجھے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بلارہے ہیں وہ درخت اسی وقت بار گاہ اقدس میں حاضر ہوگیا اور آپ کی خدمت میں سلام عرض کیا۔ آپ نے اس سے فرمایا کہ واپس اپنی جگہ پرچلے جاؤ۔چنانچہ وہ درخت واپس چلا گیا۔اس صحابی نے آپ کے سرمبارک اور مبارک ومقدس پاؤں کو بوسہ دینے کی اجازت چاہی توآپ نے اجازت دے دی،اور اس نے بوسہ دیا۔حاکم نے المستدرک میں روایت کی اور فرمایا اس کی سند صحیح ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اس نے عرض کی اے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع