30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خیال کرے گا تو جس لفظ سے مناسب جانے جواب دے لے اگرچہ سلام کے جواب میں سلام ہی کہہ کر۔
|
فقد نص محمد انہ ینوی فی الجواب السلام فافھم۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
بیشک امام محمدر حمۃ اﷲ تعالٰی علیہ نے تصریح فرمائی کہ جواب میں سلام کی نیت کی جائے۔اور اﷲ تعالٰی بڑا عالم ہے۔(ت) |
مسئلہ ۱۲۷: از اوجین مکان میر خادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ حاجی یعقوب علی خاں بستم ذیقعدہ ۱۳۱۱ھ
|
چہ مے فرمایند علمائے راہ شریعت وطریقت و مفتیان مطاع حقیقت ومعرفت دریں مسئلہ کہ مرشدان چند مریدان خود راہدایت سخت بپابوسی بدہن کنانیدہ می بوسانند می گوینند کہ ایں درست ست وبرمزار بزرگان دین رحمۃ اﷲ تعالٰی علیھم اجمعین خم شدہ سلام نمایند وبرقبر بوسہ می دہند مانند روافض این فعل درشریعت وطریقت درست است یا اشد شرک وکفر ؟ بیان فرمایند بعبارت کتب کہ عنداﷲ ماجور وعندالناس مشکور خواہند شد۔ |
کیا فرماتے ہیں علمائے شریعت وطریقت و مفتیان راز داران معرفت وحقیقت اس مسئلہ میں کہ بعض شیوخ ومرشدین نے اپنے کچھ مریدین کو ہدایت وتاکید کررکھی ہے کہ وہ ان کے پاؤں کو بوسہ دیا کریں یعنی چوما کریں۔بزرگان دین رحمہم اﷲ تعالٰی کے مزارات پر جھک کر سلام کیا کریں اور ان کی قبور کو روافض کی طرح بوسہ دیا کریں بقول ان کے ایسا کرنا جائز ہے۔کیا واقعی شریعت وطریقت میں ایسا کرنے کی اجازت ہے اور یہ شرک وکفرنہیں ہے؟ کتب اسلامی کے حوالے سے بیان فرمائیں تاکہ اﷲ تعالٰی کے ہاں ماجور ہوں اور لوگوں کے ہاں مشکور(ت) |
الجواب:
|
بوسہ قبر بمذہب راجح ممنوع است فی شرح عین العلم لعلی قاری ولا یمس ای القبر ولا التابوت والجدار فورد النھی عن مثل ذٰلک بقبرہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فکیف بقبور سائر الانام و |
صحیح اور قابل ترجیح مذہب میں کسی بھی قبر کو بوسہ دینے یعنی چومنے کی اجازت نہیں بلکہ ممانعت ہے۔چنانچہ محدث ملا علی قاری رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کی شرح عین العلم میں ہے کہ قبر، تابوت اور دیوا رکو ہاتھ نہ لگایا جائے کیونکہ حضور اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی قبر اطہر کے بارے میں اس طرح کرنے سے روکا اور منع کیا گیا ہے پھر باقی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع