30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ملاقات نہ کرنے پائے انھیں تو ان سے بعد سلام مصافحہ کرنا قطعا سنت۔
|
لانہا سنۃ لانھا عند ابتداء کل لقاء و ھذا ابتداء لقائھم ھذا۔ |
کہ ہر ملاقات پر مصافحہ کرنا سنت ہے(یعنی ملاقات کا آغاز مصافحہ کرنا مسنون ہے)۔(ت) |
اور وہ جو بے لحاظ اس تخصیص کے مصافحہ بعد فجر وعصر یابعد عصر ومغرب مطلقًا صدہا سال سے مسلمین میں معتادومرسوم،اس بارے میں اصح یہی ہے کہ جائز ومباح ہے۔
|
کما حققہ المولی المحقق سیدنا الوالد قدس سرہ الماجد فی بعض فتاواہ وذکرھھنا المولی الفاضل زینۃ عصرنا محب الرسول عبدالقادر القادری فی رسالتہ المناصحۃ فی تحقیق المصافحۃ تحقیقا جمیلا یتضح بہ الصواب توفیقا انیقا یندفع بہ الاضطراب۔ |
جیسا کہ ہمارے والد بزرگوار قدس سرہ الماجد نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تحقیق فرمائی،یہاں ہمارے دور کی ایک نفیس اور خوبصورت ہستی عاشق زار رسول والاتبار مولانا فاضل عبد القادر قادری نے اپنے رسالہ المناصحہ فی تحقیق مسائل المصافحۃ (یعنی باہم خیر خواہی کرناہاتھ ملانے کے احکام کی تحقیق بیان کرنے میں)تحقیق پیش فرمائی ہے اور خوبصورت موافقت پیدا کی ہے جس سے حقیقت واشگاف ہوتی ہے۔اور اضطراب دور ہوتا ہے۔(ت) |
علامہ شہاب الدین مصری شرح شفاء امام قاضی عیاض میں فرماتے ہیں:الاصح انھا مباحۃ [1](زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ مصافحہ کرنا مباح ہے۔ت)ہاں جہاں مداومت سے خوف ہو کہ جہال اس خصوصیت خاصہ کو واجب یا سنت بخصوصہا نہ سمجھنے لگیں وہاں اہل علم کو مناسب کہ ان اوقات میں کبھی کبھی ترک بھی کردیں۔ھذا ھو الانصاف فی امثال الباب واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب(اس قسم کے باب میں یہی انصاف ہے۔اﷲ تعالٰی راہ صواب کو اچھی طرح جانتاہے۔ت)
مسئلہ ۱۲۵: ۱۸ محرم الحرام ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بوقت سننے اسم پاک حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے انگوٹھے چومنے ضرور ہیں یانہیں۔اگر ہیں تو کس کس موقع اور کون کون محل پر۔بینوا توجروا
[1] نسیم الریاض فی شرح الشفاء للقاضی عیاض الباب الثانی فصل فی نظافۃ جسمہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دارالکتب العلمیہ بیروت ۲ /۱۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع