30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ثامنًا: جو امر نوپیدا کہ کسی سنت ثابتہ کی ضد واقع اور اس کا فعل فعل سنت کا مزیل ورافع ہو وہ بیشك ممنوع ومذموم ہے جیسے السلام علیکم کی جگہ آج کل عوام ہند میں آداب مجرا کو رنش،بندگی کا رواج ہے ____اگر غریب بندے بعض معززوں سے بطریق سنت مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم السلام علیکم کہیں اپنے حق میں گویا گالی سمجھیں،اس احداث نے ان سے سنت سلام اٹھادی۔یہ بیشك ذم وانکار کے لائق ہے بخلاف دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کے کہ بالفرض اگر سنت میں ایك ہی ہاتھ کا رواج تھا تو دو ہاتھ سے مصافحہ سے وہ بھی ادا ہوئی اور اس کے ساتھ ایك اور امر زائد ہوا جو کسی طرح اس کے منافی نہ تھا،اس میں سنت ثابتہ کا اصلا رد ورفع نہیں پھر ممنوع ومذموم ٹھہرا نا کیونکر صحیح ہوسکتا ہے۔امام حجۃ الاسلام محمد غزالی احیاء العلوم میں فرماتے ہیں:
|
انما البدع المذمومۃ ماتصادم السنن الثابتۃ [1]۔ |
بدعت مذمومہ وہی ہے جو سنن ثابتہ کا ردکرے۔ |
یہاں مصافحے کی نظیر تلبیہ حج ہے کہ صحاح ستہ میں بروایت حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے اسی قدر منقول:
لبیك اللھم لبیك،لبیك لا شریك لك لبیك،ان الحمد والنعمۃ لك والملك،لا شریك لك۔
پھر خود حضرت عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالٰی عنہما با آں شدت اتباع سنت اس میں یہ لفظ بڑھایا کرتے:
لبیك وسَعَدَیْك وَالْخَیْرُ بَیَدَ یْك وَالرَّغْبَاءُ اِلَیْك والْعَمْل۔
اوریہ زیادت امیر المومنین فاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ بھی فرماتے کما اخرجہ مسلم[2]۔
اور حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے لبیك عددالتراب زیادہ کیا اخرجہ اسحق بن راھویۃ فی مسندہ [3]۔
اور سید نا امام حسن مجتبٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے لبیك ذا النعماء والفضل الحسن بڑھایا اخرجہ ابن سعد فی الطبقات [4]
[1] احیاء العلوم کتاب آداب السماع والوجد المقام الثالث من السماع مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ ۲/ ۳۰۵
[2] صحیح مسلم کتاب الحج باب التلبیۃ وصفتہا الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۷۵
[3] نصب الرایۃ بحوالہ اسحق بن راہویہ کتاب الحج باب الاحرام نوریہ رضویہ لاہور ۳ /۲۹
[4] نصب الرایۃ بحوالہ ابن سعد فی الطبقات کتاب الحج باب الاحرام نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۳۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع