30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تعالٰی عنہما ونحوہ ابن عساکر عن ابی ھریرۃ اولہ تھادوا وتحابوا ونحوھذا اخرجہ مالك فی المؤطا [1] بسند جید عن عطاء الخراسانی مرسلا۔ |
ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے اس کی تخریج کی ہے اور اس کی مثل ابن عساکر نے ابوہریرہ سے روایت کیا جس کی ا بتداء ان الفاظ سے ہے ہدیہ لینا دینا چاہئے تم آپس میں محبت کروگے اورا س کی مثل امام مالك نے مؤطا میں جید سند کے ساتھ مراسل طریقہ پر عطاء خراسانی سے روایت کی ہے۔(ت) |
شاہ ولی اﷲ حجۃ اﷲ البالغہ میں لکھتے ہیں:
|
السرفی المصافحۃ وقولہ مرحبا بفلان ومعانقۃ القادم ونحوھا انھا زیادۃ المؤدۃ والتبشیش ورفع للوحشۃ والتدابر[2] ۔ |
مصافحہ اور مرحبا فلان کو،اور آنے والے سے معانقہ جیسے امور میں محبت اور خوشی زیادہ ہوتی ہے اور ان سے وحشت اور اجنبیت ختم ہوتی ہے۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
التحابب فی الناس خصلۃ یرضاھا اﷲ تعالٰی وافشاء السلام اٰلۃ صالحۃ لانشاء المحبۃ وکذالك المصافحۃ و تقبیل الید ونحوذلك [3]۔ |
لوگوں میں محبت وہ خصلت ہے جو اﷲ تعالٰی کی رضا کا باعث ہے اور سلام کی عادت محبت پیدا کرنے کا ذریعہ ہے اور یوں ہی مصافحہ اور دست بوسی وغیرہ بھی(ت) |
اور بیشك یہ امور عرف وعادت قوم پر مبنی ہوتے ہیں جو امر جس طرح جس قوم میں رائج اور ان کے نزدیك الفت وموانست اور ا س کی زیادت پر دلیل ہو وہ عین مقصود شرع ہوگا جب تك بالخصوص اس میں کوئی نہی وارد نہ ہو وجہ یہ کہ اس کی کسی خصوصیت سے شرع مطہر کی کوئی خاص غرض متعلق نہیں۔اصل مقصود سے کام ہے جس ہیئت سے حاصل ہو۔آخر نہ دیکھا کہ انھیں امور میں جو وقت ملاقات بغرض مذکور مشروع ہوئے ایك مرحبا کہنا تھا کہ اس سے بھی خوشدلی اور اس شخص کے آنے پر فرحت ظاہر ہوتی ہے۔حدیث براء ابن عازب رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے گزرا کہ حضور صلی اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
[1] مؤطا امام مالك باب ماجاء فی المہاجرۃ میر محمد کتب خانہ کراچی ص۷۰۷،کنز العمال بحوالہ ابن عساکر عن ابی ہریرۃ حدیث ۱۵۰۵۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶/۱۱۰
[2] حجۃ اﷲ البالغۃ آداب الصحبۃ السرفی افشاء السلام الخ المکتبۃ السلفیہ لاہور ۲ /۱۹۸
[3] حجۃ اﷲ البالغۃ آداب الصحبۃ السرفی افشاء السلام الخ المکتبۃ السلفیہ لاہور ۲ /۱۹۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع